راولپنڈی: شہر کی تاجر تنظیموں نے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت دکانوں اور تجارتی مراکز پر عائد صفائی فیس کو مسترد کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اضافی مالی بوجھ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔ مرکزی انجمن تاجران راولپنڈی کے صدر ملک شاہد غفور پراچہ نے راولپنڈی پریس کلب میں دیگر کاروباری نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں نئی فیس پر اعتراضات پیش کیے۔
تاجر رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ کاروباری ادارے پہلے ہی پراپرٹی ٹیکس، واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی کے بل، بجلی و گیس کے اخراجات، مختلف سرکاری محصولات اور کاروباری لاگت برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں صفائی کے نام پر الگ ماہانہ چارج چھوٹے دکانداروں اور تجارتی مراکز پر اضافی دباؤ ڈالے گا۔
تنظیم نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئی فیس نافذ رکھنے سے پہلے موجودہ ٹیکسوں، بلوں اور ان کے عوض فراہم کی جانے والی خدمات کا جامع جائزہ لیا جائے۔ تاجروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پراپرٹی ٹیکس اور واسا کے بلوں میں بلدیاتی یا صفائی سے متعلق خدمات کے اخراجات پہلے ہی شامل ہیں تو ستھرا پنجاب کے تحت علیحدہ بل کی قانونی بنیاد اور خدمات کا دائرہ واضح کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں مختلف مارکیٹوں اور کاروباری انجمنوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری مؤثر صفائی کے نظام کی ضرورت سے اختلاف نہیں کرتی، لیکن ایک ہی نوعیت کی خدمات کے لیے مختلف اداروں کی جانب سے متعدد مالی مطالبات کی صورت میں شفافیت اور جوابدہی ضروری ہے۔
یہ فی الحال تاجر تنظیموں کا مطالبہ اور احتجاج کی وارننگ ہے؛ رپورٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے فیس واپس لینے یا اس کے قانونی ڈھانچے میں تبدیلی کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ معاملے کا اگلا مرحلہ صوبائی حکام کی وضاحت یا تاجر نمائندوں کے ساتھ مذاکرات ہوسکتا ہے، جبکہ کاروباری تنظیموں نے اپنے مطالبے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

