کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 698.57 پوائنٹس، یا 0.40 فیصد، کمی کے ساتھ 171,943.59 پوائنٹس پر بند ہوا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق مشرق وسطیٰ میں نئی فوجی کشیدگی اور عالمی خام تیل کی بلند قیمتوں نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کو تقویت دی۔
کاروباری سیشن کا آغاز تقریباً 173 ہزار پوائنٹس کے قریب ہوا اور انڈیکس ابتدائی طور پر 173,174.18 کی انٹرا ڈے بلند سطح تک پہنچا، لیکن یہ بہتری برقرار نہ رہ سکی۔ بعد میں فروخت بڑھنے سے انڈیکس 172 ہزار کی سطح کی طرف آیا اور آخری گھنٹوں میں دباؤ مزید بڑھا، جس سے انٹرا ڈے کم ترین سطح 171,801.66 ریکارڈ ہوئی۔ اختتام پر انڈیکس نے کچھ سطح بحال کی لیکن مجموعی طور پر منفی زون میں بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق سیشن اتار چڑھاؤ اور مندی کا شکار رہا، جبکہ مشرق وسطیٰ کی بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خام تیل کی بلند قیمتیں سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہوئیں۔ بروکریج کے مطابق ایف ایف سی، ایم سی بی، لکی سیمنٹ، میزان بینک اور ماری پیٹرولیم نے مجموعی طور پر انڈیکس پر تقریباً 409 پوائنٹس کا منفی اثر ڈالا، جبکہ پاک سوزوکی انجینئرنگ، یو بی ایل اور او جی ڈی سی نے تقریباً 224 پوائنٹس کی مثبت مدد فراہم کی۔
ایک روز قبل منگل کو بھی کے ایس ای 100 انڈیکس 993.92 پوائنٹس یا 0.57 فیصد گر کر 172,642.16 پر بند ہوا تھا۔ یوں دو مسلسل سیشنز میں مارکیٹ پر منفی رجحان نمایاں رہا۔ تجزیہ کاروں نے اسے امریکا-ایران کشیدگی، سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں اور عالمی تیل قیمتوں کے باعث بڑھتی مہنگائی اور کاروباری لاگت کے خدشات سے جوڑا۔
عالمی سطح پر بھی ایشیائی منڈیوں میں ملا جلا اور محتاط رجحان دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل بدھ کو 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جس سے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے تیل کی بلند قیمتیں درآمدی بل، روپے اور مہنگائی کی توقعات کے ذریعے مقامی حصص بازار کے جذبات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
روزانہ کی مارکیٹ حرکت کو کسی طویل مدتی رجحان کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ کے ایس ای 100 کی سمت آئندہ عالمی تیل قیمتوں، علاقائی جنگ، مقامی شرح سود، کمپنیوں کے نتائج اور سرمایہ کاروں کی رسک برداشت سمیت متعدد عوامل سے طے ہوگی۔ بدھ کے سیشن کا واضح نتیجہ یہ رہا کہ ابتدائی بہتری کے باوجود فروخت غالب رہی اور انڈیکس تقریباً سات سو پوائنٹس کم بند ہوا۔




