کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے کاروباری سیشن کے دوران تیزی کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 768.66 پوائنٹس، یا 0.46 فیصد، بڑھ کر 166,186.17 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کے مطابق اہم انڈیکس حصص میں خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا، اگرچہ بلند سطح پر بعض حصص میں منافع کے حصول سے دن کے دوران حاصل ہونے والی کچھ تیزی کم ہوگئی۔
کاروبار کے دوران انڈیکس 166,877.02 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک گیا جبکہ کم ترین سطح 165,613.12 پوائنٹس رہی۔ سیشن کے اختتام پر انڈیکس 166 ہزار کی سطح سے اوپر برقرار رہا۔ مارکیٹ کی وسعت بھی مجموعی طور پر مثبت رہی؛ ایک تجزیاتی نوٹ کے مطابق کے ایس ای 100 میں شامل 71 حصص بڑھے جبکہ 29 میں کمی ہوئی۔ پی ٹی سی ایل، فوجی فرٹیلائزر کمپنی اور سسٹمز لمیٹڈ نے انڈیکس کے اضافے میں نمایاں حصہ ڈالا، جبکہ بعض بڑی کمپنیوں کے حصص نے تیزی کو محدود کیا۔
تجزیہ کاروں نے 167,000 سے 168,000 پوائنٹس کے علاقے کو قریبی تکنیکی مزاحمت قرار دیا ہے۔ تکنیکی مزاحمت کوئی یقینی پیش گوئی نہیں ہوتی بلکہ ماضی کی قیمتوں اور مارکیٹ رویے کی بنیاد پر ایک سطح سمجھی جاتی ہے جہاں خرید و فروخت کا دباؤ بدل سکتا ہے۔ اسی لیے آئندہ سیشن میں انڈیکس کا اس حد سے اوپر یا نیچے جانا عالمی اور مقامی عوامل، سرمایہ کاروں کے رجحان اور کمپنیوں سے متعلق خبروں پر منحصر ہوگا۔
علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مارکیٹ کے لیے اہم خطرات میں شامل ہیں۔ بزنس ریکارڈر نے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کو بھی سرمایہ کاروں کی تشویش کا ایک عنصر بتایا۔ اس کے باوجود جمعرات کو مجموعی خریداری نے انڈیکس کو مثبت رکھا۔ اسٹاک مارکیٹ کی ایک روزہ حرکت کو وسیع معاشی رجحان کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن موجودہ سیشن نے حالیہ بحالی کو آگے بڑھایا اور کے ایس ای 100 کو 167 ہزار پوائنٹس کے قریب پہنچا دیا۔

