کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروبار کے دوران نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، تاہم سیشن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 663.59 پوائنٹس یا 0.41 فیصد اضافے کے ساتھ 163,038.47 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروبار کے آغاز میں مارکیٹ کمزور رہی اور انڈیکس 162,347.31 تک گر گیا تھا، جس سے ظاہر ہوا کہ سرمایہ کار مانیٹری پالیسی کے فیصلے اور دیگر معاشی عوامل کے بارے میں محتاط تھے۔

اسی روز اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بنیادی شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کر کے اسے 12 فیصد کر دیا۔ مارکیٹ میں شرح سود کے فیصلے سے پہلے دباؤ موجود تھا کیونکہ بلند شرح سود کمپنیوں کی فنانسنگ لاگت، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور ایکویٹی ویلیوایشن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم سیشن کے بعد کے حصے میں خریداری واپس آنے سے انڈیکس نے ابتدائی نقصان پورا کیا اور مثبت زون میں بند ہوا۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورت حال اور عالمی توانائی قیمتیں بھی اہم عوامل بنی ہوئی ہیں۔ پاکستان توانائی کا بڑا درآمد کنندہ ہے، اس لیے عالمی تیل کی بلند قیمتیں درآمدی بل، مہنگائی اور شرح سود کے منظرنامے پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ یہی عوامل حالیہ سیشنز میں اسٹاک مارکیٹ کے رجحان کو بھی متاثر کرتے رہے ہیں۔

پیر کے کاروبار کا نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ مارکیٹ نے پالیسی ریٹ کے اضافے کے باوجود دن کے اختتام تک کچھ استحکام حاصل کیا، لیکن ایک دن کی تیزی کو مستقل رجحان نہیں سمجھا جا سکتا۔ آنے والے سیشنز میں سرمایہ کار کمپنیوں کے مالی نتائج، عالمی تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور اسٹیٹ بینک کے مہنگائی سے متعلق اشاروں پر نظر رکھیں گے۔

کے ایس ای 100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی بڑی فہرست شدہ کمپنیوں کی کارکردگی کا اہم پیمانہ ہے۔ اس میں روزانہ کی تبدیلی مارکیٹ کے مجموعی مزاج کی نشاندہی کرتی ہے، مگر مختلف شعبوں اور انفرادی حصص کی کارکردگی الگ ہو سکتی ہے۔ تازہ سیشن میں مجموعی انڈیکس کی مثبت بندش ابتدائی فروخت کے دباؤ کے بعد بحالی کی عکاس رہی۔