اسلام آباد/لکی مروت: پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کسی حتمی سمجھوتے تک نہ پہنچنے کے بعد اتوار 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے اپنے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کر دیا۔ مختلف پاکستانی خبر رساں اداروں کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی گنڈی چوک پہنچے جہاں بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور دیگر علاقوں سے پارٹی کارکن اور قافلے جمع ہوئے۔
جیو نیوز کے مطابق سہیل آفریدی نے لکی مروت سے قافلے کی قیادت شروع کی اور کہا کہ آئندہ مرحلے سے متعلق حکمت عملی 8 اکتوبر کو خیبرآباد پہنچنے پر سامنے لائی جائے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ کے مقام اور راستے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ کارکن مختلف اضلاع سے لکی مروت پہنچتے رہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی رپورٹ میں اس پیش رفت کو لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ ابتدائی مرحلہ لکی مروت سے صوابی کی جانب بڑھنے کے پروگرام کے تحت شروع ہوا۔ اسی رپورٹ کے مطابق مارچ پہلے 27 ستمبر کے لیے طے کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا۔ پارٹی قیادت کے بیان کے مطابق مختلف اضلاع سے آنے والے قافلوں کو گنڈی چوک میں اکٹھا ہونا تھا۔
لانگ مارچ سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندوں کے درمیان متعدد دور کی بات چیت ہوئی، تاہم بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ ڈان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پر بات چیت سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومتی مطالبات اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی سے متعلق اختلافات پر ڈالی۔ یہ دعوے فریقین کے اپنے مؤقف ہیں اور کسی آزاد عدالتی یا تحقیقاتی نتیجے کی حیثیت نہیں رکھتے۔
لانگ مارچ ایسے وقت شروع ہوا ہے جب وفاق اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی حکام نے اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق عدالتی احکامات کی پابندی پر زور دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی مطالبات کے حق میں عوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئندہ مرحلے، قافلے کے حتمی روٹ اور اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی نوعیت سے متعلق صورتحال پارٹی کے اگلے اعلان کے بعد مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
