اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بیشتر ارکان نے موجودہ حالات میں مزید سیاسی مذاکرات کی مخالفت کی، جبکہ پارٹی قیادت کی حکمت عملی اور فیصلہ سازی پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ ڈان کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں بحث بعض مواقع پر گرم رہی اور ارکان نے پارٹی کو اپنی داخلی حکمت عملی کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔

اجلاس میں شریک متعدد قانون سازوں کا مؤقف تھا کہ گزشتہ مذاکراتی کوششوں سے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں ہوئے اور نئی بات چیت شروع کرنے سے پہلے واضح اہداف، اختیارات اور شرائط طے ہونی چاہئیں۔ بعض ارکان نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کارکنوں اور پارلیمانی نمائندوں کو فیصلوں کے بارے میں بروقت اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق پارٹی کے اندر موجود اختلاف رائے صرف مذاکرات تک محدود نہیں تھا۔ کئی ارکان نے موجودہ سیاسی اور تنظیمی چیلنجز سے نمٹنے میں مرکزی قیادت کے انداز پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ تاہم پارلیمانی پارٹی میں اختلافی رائے سامنے آنا کسی باضابطہ پارٹی تقسیم یا حتمی پالیسی تبدیلی کے مترادف نہیں؛ حتمی سیاسی سمت متعلقہ فیصلہ ساز فورمز اور پارٹی قیادت کی منظوری سے طے ہوگی۔

پی ٹی آئی حالیہ عرصے میں حکومت اور دوسرے سیاسی فریقوں کے ساتھ مذاکرات کے امکانات، پارلیمانی حکمت عملی اور احتجاجی سیاست کے درمیان راستہ متعین کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ پارٹی کے اندر ایک حلقہ سیاسی رابطوں کو جاری رکھنے کا حامی رہا ہے، جبکہ دوسرا حلقہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات واضح ضمانتوں اور قابل پیمائش نتائج کے بغیر مؤثر نہیں ہوں گے۔

تازہ اجلاس اس داخلی بحث کو زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ اگر پارٹی مزید مذاکرات سے گریز کرتی ہے تو اس کے بعد پارلیمان، عدالتوں اور عوامی سیاسی سرگرمیوں میں اس کی حکمت عملی اہم ہوگی۔ دوسری طرف اگر قیادت دوبارہ بات چیت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اسے اپنے قانون سازوں کی بڑی تعداد کے تحفظات کا جواب دینا پڑے گا۔ اجلاس میں سامنے آنے والی آرا سیاسی پوزیشنز ہیں اور انہیں کسی حتمی بین الجماعتی مذاکراتی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا جب تک پارٹی باضابطہ اعلان نہ کرے۔