لاہور: پنجاب کے ہیلتھ انشورنس پروگرام کے لیے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کے باعث شریک نجی ہسپتالوں میں بعض نئے داخلوں اور علاج کی منظوری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، تاہم پروگرام چلانے والے ادارے نے واضح کیا ہے کہ اسکیم بند نہیں کی گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق متعلقہ ہدایات جنرل سرجری، آرتھوپیڈک، نیورو سرجری اور بعض دیگر اِن پیشنٹ خدمات کے نئے کیسز سے متعلق ہیں اور ان خدمات کا تسلسل مطلوبہ فنڈز کی دستیابی سے منسلک ہے۔

پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ انشورنس پروگرام بدستور فعال ہے اور موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ فنڈز کے اجرا میں تاخیر ہے۔ ادارہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ مختص رقم جلد جاری ہو سکے۔ اس وضاحت کے مطابق مسئلہ پروگرام کے خاتمے کا نہیں بلکہ ادائیگیوں اور منظوریوں کے لیے مالی وسائل کی بروقت فراہمی کا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر شریک ہسپتال مطلوبہ اجازت نامے حاصل نہ کر سکیں تو کچھ مریضوں کو علاج مؤخر کرنا پڑ سکتا ہے یا اخراجات خود برداشت کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ تاہم ڈائیلاسز، سرطان کے علاج، دل کی سرجری اور ٹرانسپلانٹ پروگراموں کو موجودہ ہدایات سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ہسپتالوں کو کہا گیا ہے کہ ان خصوصی پروگراموں کے تحت آنے والے مریضوں کو داخلے سے انکار نہ کیا جائے۔

پنجاب کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ صوبائی صحت کے شعبے کا مجموعی بجٹ 500.62 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ فنڈز کے اجرا میں رکاوٹ اس لیے اہم ہے کہ انشورنس ماڈل کے تحت نجی ہسپتالوں میں علاج کی منظوری اور ادائیگی کا تسلسل مریضوں کی بروقت رسائی سے براہ راست جڑا ہوتا ہے۔

کمپنی کے حکام کے مطابق پروگرام پینل پر موجود نجی ہسپتالوں کے ذریعے جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں انشورنس پروگرام پہلے کی ایک پالیسی تبدیلی کے تحت ختم کیا جا چکا تھا، تاہم وہاں مریضوں کا علاج سرکاری نظامِ صحت کے موجودہ انتظامات کے مطابق جاری رہتا ہے۔ موجودہ پیش رفت میں اصل توجہ فنڈز کے جلد اجرا پر ہے تاکہ نجی ہسپتالوں میں متاثر ہونے والی منظوریوں اور ممکنہ التوا کو کم کیا جا سکے۔