شمالی وزیرستان: تحصیل میرعلی کے عیدک بازار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ منگل کی دوپہر تقریباً چار بجے پیش آیا جب حملہ آوروں نے کانسٹیبل عصمت اللہ کو بازار میں نشانہ بنایا اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور حملے کے حالات و ذمہ دار افراد کی شناخت کے لیے تفتیش شروع کردی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ دستیاب ابتدائی معلومات میں حملہ آوروں کی تعداد یا ان کے فرار کے راستے کی مصدقہ تفصیل نہیں دی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق عصمت اللہ کا تعلق ضلع بنوں کے مامی خیل علاقے سے تھا اور وہ پولیس کے ساتھ امن کمیٹی کے رکن کے طور پر بھی وابستہ رہے تھے۔ پولیس نے اس پس منظر کو تفتیش کا ممکنہ پہلو قرار دینے کے بجائے فی الحال صرف دستیاب معلومات کے طور پر لیا ہے، کیونکہ حملے کا محرک ابھی واضح نہیں ہوا۔
واقعے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ اس لیے اسے کسی مخصوص تنظیم سے منسوب کرنا قبل از وقت ہوگا۔ تفتیش کار دستیاب شواہد، عینی معلومات اور دیگر متعلقہ مواد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ اہلکار کو ذاتی، پیشہ ورانہ یا عسکریت پسندانہ محرک کے تحت نشانہ بنایا گیا۔
شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں پولیس اہلکار ماضی میں بھی ہدفی حملوں کا سامنا کرتے رہے ہیں، جس کے باعث مقامی پولیس کی سکیورٹی ایک مستقل چیلنج ہے۔ عیدک بازار کا تازہ واقعہ اسی حساس ماحول میں پیش آیا ہے، تاہم اس مخصوص حملے کے بارے میں حتمی نتیجہ پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔
