پنجاب حکومت نے طلبہ کے لیے ای بائیک اسکیم کو وسعت دیتے ہوئے ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ طلبہ سے ڈاؤن پیمنٹ یا ماہانہ قسط کے علاوہ اضافی چارجز وصول نہ کیے جائیں۔
حکومتی فیصلے کے مطابق سود اور انشورنس سمیت متعلقہ اضافی مالی اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ اس کا مقصد طلبہ کے لیے اسکیم میں ابتدائی مالی رکاوٹ کم کرنا اور تعلیمی اداروں تک آمدورفت کے لیے نسبتاً کم آپریٹنگ لاگت والا ذریعہ فراہم کرنا ہے۔ نوجوانوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی لاگت تعلیم تک رسائی میں اہم عملی مسئلہ ہو سکتی ہے، خصوصاً بڑے شہروں اور ایسے علاقوں میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ محدود ہے۔
الیکٹرک بائیکس پیٹرول کے مقابلے میں روزمرہ ایندھن خرچ کم کر سکتی ہیں، مگر ان کی مجموعی لاگت میں بیٹری کی عمر، چارجنگ، مرمت اور بجلی کی قیمت بھی شامل ہوتی ہے۔ بڑے پیمانے کی اسکیم کے لیے قابل اعتماد چارجرز، سروس نیٹ ورک، اسپیئر پارٹس اور بیٹری معیار اہم ہوں گے۔ خراب یا کم معیار بیٹری نہ صرف صارف کے اخراجات بڑھا سکتی ہے بلکہ آگ اور حفاظتی خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔
حکومت نے طلبہ کے لیے صرف ماہانہ اقساط کے ذریعے ادائیگی کا ماڈل آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اہلیت، قرعہ اندازی یا تقسیم کے تمام عملی قواعد اسکیم کے سرکاری پورٹل اور متعلقہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہوں گے۔ طالبات اور طلبہ کے درمیان تقسیم، جغرافیائی کوٹہ اور تعلیمی اداروں کی تصدیق جیسے معاملات بھی شفاف طریقے سے چلانا ضروری ہوگا۔
ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ بائیکس کا حجم اسے ملک کی بڑی طلبہ ٹرانسپورٹ اسکیموں میں شامل کرتا ہے۔ کامیابی کا پیمانہ صرف تقسیم شدہ بائیکس نہیں بلکہ بروقت فراہمی، طلبہ کی ادائیگی کی صلاحیت، سڑک پر حفاظت اور طویل مدت میں گاڑیوں کی قابل استعمال حالت ہوگا۔ ہیلمٹ، ٹریفک تربیت اور محفوظ ڈرائیونگ کو بھی اسکیم کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے تاکہ نقل و حرکت کی سہولت حادثات کے خطرے میں اضافے کا باعث نہ بنے۔




