لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کی 91 تحصیلوں میں جنوری 2027 سے 1,500 الیکٹرک بسیں چلانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہر متعلقہ تحصیل کے لیے مخصوص الیکٹرک بس ڈپو قائم کرنے کی منظوری دی، جبکہ نئی بسوں کی پہلی کھیپ جنوری میں لاہور پہنچنے کی توقع ہے۔ صوبائی حکومت کا ہدف ہے کہ جون 2027 تک پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 3,000 الیکٹرک بسیں آپریشنل ہو جائیں۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں مختلف ڈویژنز اور تحصیلوں کے لیے بسوں کی تقسیم سے متعلق تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔ بریفنگ کے مطابق ملتان کی نو تحصیلوں کے لیے 169، ساہیوال کی چار تحصیلوں کے لیے 87، بہاولپور کی 11 تحصیلوں کے لیے 215 اور ڈیرہ غازی خان کی 10 تحصیلوں کے لیے 63 بسیں مختص کرنے کا منصوبہ ہے۔ فیصل آباد کی 12 تحصیلوں کو 202، سرگودھا کی 14 تحصیلوں کو 98، گوجرانوالہ کی سات تحصیلوں کو 125، گجرات کی آٹھ تحصیلوں کو 122 جبکہ راولپنڈی کی 16 تحصیلوں میں 219 بسیں چلانے کی تجویز دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں 612 الیکٹرک بسیں پہلے ہی مکمل طور پر فعال ہیں اور روزانہ بڑی تعداد میں مسافروں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ مزید 192 بسیں ملتان اور دیگر اضلاع میں جلد آپریشنل کرنے کی تیاری ہے۔ منصوبے کے تحت سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد، لاہور، مظفرگڑھ، راولپنڈی، جھنگ، بہاولپور، رحیم یار خان اور اٹک سمیت متعدد اضلاع میں بسوں کی تعداد بڑھائی جائے گی، جبکہ بھکر، حافظ آباد، خانیوال، چنیوٹ، لیہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، مری، گجرات اور شیخوپورہ بھی توسیعی مرحلے میں شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے الیکٹرک بس پروگرام کے پہلے مرحلے کو رواں سال ستمبر کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف بھی دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے ماس ٹرانزٹ نظام پر کام جاری ہے، جبکہ لاہور میٹرو بس سروس کے 25 اسٹیشنوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔ الیکٹرک بسوں کی توسیع صوبائی حکومت کی پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے اور شہری و نیم شہری علاقوں میں کم اخراج والی سفری سہولیات بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔




