لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں زرعی شعبے کے لیے ’اپنا کسان بینک‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کسانوں کو 5 فیصد مارک اپ پر 5 کروڑ روپے تک قرض فراہم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسانوں کے لیے مالی رسائی بڑھانے اور زرعی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے سلسلے میں اس نئے ادارے کے قیام کا اعلان کیا۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ کسانوں کو روایتی بینکاری نظام میں ضمانت، دستاویزات اور بلند مالی لاگت جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ مجوزہ کسان بینک کو اس خلا کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ کاشتکار فصل، زرعی مشینری، آبپاشی، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر پیداواری ضروریات کے لیے نسبتاً کم شرح پر سرمایہ حاصل کر سکیں۔

اعلان کے مطابق قرض کی زیادہ سے زیادہ حد 5 کروڑ روپے تک ہوگی اور مارک اپ 5 فیصد رکھا جائے گا۔ تاہم مختلف قرض کیٹیگریز، ضمانتی شرائط، اہلیت، واپسی کی مدت اور بینک کے مکمل عملی آغاز کی تفصیلات مرحلہ وار سامنے آئیں گی۔ اس لیے اعلان کردہ زیادہ سے زیادہ حد کو ہر درخواست گزار کے لیے خودکار طور پر دستیاب رقم نہیں سمجھا جا سکتا؛ اصل قرض انفرادی اہلیت اور مقررہ قواعد کے مطابق ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کسان کارڈ پروگرام میں بھی توسیع کا اعلان کیا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی کسان کارڈ کے ذریعے کھاد، بیج اور دیگر زرعی ضروریات کے لیے مالی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ نئی تبدیلیوں کا مقصد کارڈ کی افادیت اور مالی گنجائش بڑھانا ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکار موسمی اخراجات بروقت پورے کر سکیں۔

پنجاب پاکستان کی زرعی پیداوار کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، اس لیے زرعی قرض تک رسائی کا اثر صرف کسانوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ گندم، چاول، کپاس، گنا اور دیگر فصلوں کی پیداوار، دیہی روزگار اور خوراک کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کم لاگت قرض اگر بروقت اور شفاف طریقے سے دستیاب ہو تو کسان غیر رسمی مہنگے قرضوں پر انحصار کم کر سکتے ہیں، تاہم پروگرام کی کامیابی قرضوں کی وصولی، ہدف بندی اور نگرانی پر بھی منحصر ہوگی۔

صوبائی حکومت کے اعلان کے بعد اگلا اہم مرحلہ بینک کے قانونی و انتظامی ڈھانچے، سرمایہ، برانچ یا ڈیجیٹل رسائی، درخواست کے طریقۂ کار اور قرض کے خطرات سے متعلق قواعد کی وضاحت ہے۔ کسانوں کے لیے حقیقی اثر اسی وقت واضح ہوگا جب اسکیم عملی طور پر درخواستیں قبول کرنا شروع کرے گی اور مختلف اضلاع میں اس کی رسائی اور قرض کی تقسیم کے اعداد سامنے آئیں گے۔