اسلام آباد: وفاقی حکومت پاکستان کے تعمیراتی شعبے کے لیے ایک نئی Construction Industry Development Authority (CIDA) قائم کرنے یا ترقی اور ریگولیشن کے لیے دو الگ ادارے بنانے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ جیو نیوز اور دی نیوز کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ ڈھانچے پر وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس میں تفصیلی بحث ہوئی۔

حکومت کا موجودہ منصوبہ ابھی حتمی قانون نہیں ہے۔ مجوزہ CIDA بل کا مسودہ تیار ہونے کے بعد اسے پہلے وفاقی کابینہ اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری درکار ہوگی۔ اجلاس میں اس سوال پر مزید مشاورت کی ہدایت دی گئی کہ ایک ہی ادارہ تعمیراتی صنعت کی ترقی اور نگرانی دونوں کام انجام دے یا ان مقاصد کے لیے دو الگ ادارے قائم کیے جائیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندوں کو بھی ادارہ جاتی ڈھانچے پر مزید کام کرنے کو کہا گیا ہے۔

اجلاس میں ٹھیکیداروں کی defect liability period کے دوران جمع کرائی جانے والی retention money کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ایک تجویز یہ ہے کہ یہ رقم ایسے اکاؤنٹس میں رکھی جائے جہاں اس پر منافع حاصل ہو اور مقررہ مدت پوری ہونے پر اصل رقم کے ساتھ منافع بھی ٹھیکیدار کو واپس کیا جا سکے۔ حکومت نے اس تجویز کے عملی اور مالی پہلوؤں پر مزید مشاورت کی ہدایت دی ہے۔

سرکاری منصوبوں میں تنازعات کو جلد روکنے یا حل کرنے کے لیے Dispute Avoidance/Adjudication Board کے طریقہ کار کو وسیع کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن نے 20 ارب روپے یا اس سے زیادہ مالیت کے منصوبوں کے لیے اس نظام کی تجویز دی، تاہم وزیر اقتصادی امور نے حد کم کرنے اور فریقین کے ساتھ مزید مشاورت کی ہدایت کی۔

مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک میں بین الاقوامی فیڈریشن آف کنسلٹنگ انجینئرز، یعنی FIDIC، کے قواعد اور معیارات سے رہنمائی لینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو بڑے منصوبوں کے لیے کم از کم تین سال کی defect liability period متعارف کرانے پر کام شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جسے بعد میں مرحلہ وار چھوٹے منصوبوں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان تمام تجاویز کی حتمی شکل قانون سازی اور سرکاری منظوریوں کے بعد ہی طے ہوگی۔