اسلام آباد: پاکستان اور چین نے سوست خنجراب سرحدی گزرگاہ پر زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی تجارت آسان بنانے کے لیے گرین چینل کو عملی شکل دینے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ڈان کے مطابق دونوں ملکوں کی کسٹمز انتظامیہ نے جمعرات کو وفاقی بورڈ آف ریونیو میں آن لائن تقریب کے ذریعے معاہدہ کیا، جس کا مقصد منتخب زرعی مصنوعات کی سرحد پار نقل و حرکت کو تیز اور زیادہ منظم بنانا ہے۔
پاکستانی وفد کی قیادت ایف بی آر کے ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ نے کی، جبکہ چینی وفد کی سربراہی ارومچی کسٹمز کے نائب سربراہ اور تاشقرغان کسٹمز کے ڈائریکٹر لی چنگ ہوا نے کی۔ سرکاری اعلان کے مطابق دونوں جانب سے زرعی مصنوعات کی ایک متفقہ فہرست تیار کی جائے گی اور اہل کھیپوں کو ترجیحی پروسیسنگ اور جانچ کی سہولت دی جائے گی، تاہم رسک پر مبنی کسٹمز کنٹرول برقرار رہیں گے۔
معاہدے میں دونوں کسٹمز اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ممکنہ خطرات سے متعلق الرٹس شیئر کرنے کا انتظام بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد سرحدی انتظام، نگرانی اور تجارت میں ہم آہنگی بہتر بنانا ہے۔ خاص طور پر جلد خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی شق شامل کی گئی ہے تاکہ سرحد پر انتظار کا وقت کم ہو اور سامان بروقت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
پاکستانی وفد میں پشاور کے چیف کلکٹر کسٹمز، گلگت بلتستان کے کلکٹر کسٹمز، محکمہ تحفظ نباتات، نیشنل ایگرو ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت تجارت اور چین میں پاکستانی سفارت خانے کے کمرشل قونصلر کے نمائندے بھی شامل تھے۔ مختلف اداروں کی شمولیت اس لیے اہم ہے کہ زرعی تجارت میں کسٹمز کے ساتھ قرنطینہ، فوڈ سیفٹی، دستاویزات اور سرحدی کلیئرنس کے متعدد تقاضے پورے کرنا پڑتے ہیں۔
خنجراب پاس گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے سے ملاتا ہے اور سطح سمندر سے تقریباً 15 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع ایک اہم بین الاقوامی زمینی راستہ ہے۔ 1985 کے سرحدی پروٹوکول کے تحت روایتی طور پر یہ راستہ اپریل سے نومبر تک تجارت اور سفر کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ سردیوں میں شدید برف باری نقل و حرکت کو متاثر کرتی ہے۔
ڈان کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کسٹمز نے خنجراب کے راستے چین سے درآمدات پر ریکارڈ 15 ارب روپے ریونیو وصول کیا، جبکہ تقریباً 2.8 ارب روپے مالیت کی اشیا چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو اسی راستے سے برآمد کی گئیں۔ نئے گرین چینل کی کامیابی کا انحصار عملی کلیئرنس وقت، مصنوعات کی متفقہ فہرست اور دونوں ملکوں کے سرحدی اداروں کے درمیان بروقت ڈیٹا شیئرنگ پر ہوگا۔
