کراچی: وفاقی حکومت نے پاکستان انویسٹمنٹ مارکیٹ میں ٹریژری بلز کی تازہ نیلامی کے ذریعے تقریباً 1.9 کھرب روپے حاصل کر لیے ہیں۔ نیلامی میں تین، چھ اور بارہ ماہ کی مدت کے سرکاری کاغذات پیش کیے گئے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے نمایاں بولیاں موصول ہوئیں۔ حالیہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود بڑھنے کے بعد اس نیلامی کے کٹ آف ییلڈز میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈان کے مطابق مختلف مدتوں کے ٹی بلز پر کٹ آف ییلڈ میں 61 بیسس پوائنٹس تک اضافہ ہوا۔ یہ تبدیلی اسٹیٹ بینک کی حالیہ پالیسی ریٹ کارروائی کے بعد مارکیٹ میں شرح سود کی نئی توقعات کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹی بلز حکومت کے قلیل مدتی قرض لینے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور ان کی نیلامیوں سے بینکاری نظام میں نقدی، حکومتی مالی ضروریات اور مارکیٹ کی شرح سود کے رجحانات کا اندازہ ہوتا ہے۔

حکومت کی جانب سے بڑی مقدار میں قلیل مدتی قرض اٹھانے کی ضرورت بجٹ خسارے، سابقہ قرضوں کی ادائیگی اور روزمرہ مالی ضروریات سے جڑی ہوتی ہے۔ سرمایہ کار عموماً پالیسی ریٹ، مہنگائی کی توقعات، روپے کی قدر اور آئندہ مانیٹری پالیسی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے سرکاری سیکیورٹیز کے لیے اپنی مطلوبہ شرح منافع طے کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مرکزی بینک کی شرح سود میں تبدیلی کا اثر ٹی بل نیلامیوں پر نسبتاً تیزی سے ظاہر ہوتا ہے۔

نیلامی میں حاصل ہونے والی رقم کو نئی خالص حکومتی آمدن سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ سرکاری قرض کی نیلامیوں کا ایک حصہ پہلے سے موجود واجبات کی تجدید یا ادائیگی کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ قرض کے حجم کے ساتھ حکومت کے لیے اصل اہمیت اس کی لاگت اور مدت کی ساخت کی ہوتی ہے۔ قلیل مدتی قرض پر بلند شرح منافع مستقبل کے بجٹ میں سودی ادائیگیوں کے دباؤ کو بڑھا سکتی ہے۔

پاکستان میں سرکاری قرض کی لاگت گزشتہ برسوں میں مالی پالیسی کا مرکزی مسئلہ رہی ہے۔ بلند شرح سود سے حکومت کی قرض سروسنگ مہنگی ہوتی ہے، جبکہ کم شرحیں قرض کی لاگت میں کمی لا سکتی ہیں لیکن ان کا انحصار مہنگائی، زرِ مبادلہ کی صورتحال اور مجموعی معاشی استحکام پر ہوتا ہے۔ تازہ نیلامی میں ییلڈز کا اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ نے حالیہ مانیٹری سختی کو فوری طور پر قیمتوں میں شامل کیا ہے۔

آئندہ نیلامیوں میں سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کی پالیسی سمت، مہنگائی کے نئے اعداد اور حکومتی قرض کی طلب پر نظر رکھیں گے۔ اگر شرح سود طویل عرصے تک بلند رہتی ہے تو مختصر مدتی قرض کی تجدید زیادہ مہنگی ہو سکتی ہے؛ اس کے برعکس مالی خسارے میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ میں نرمی حکومت کو قرض کی لاگت محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔