لاہور میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے صوبائی ویگرنسی قانون میں ترامیم کے بل کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت گداگری کے تناظر میں بچوں کے تحفظ کی عمر 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کرنے کی تجویز ہے، جبکہ والدین یا سرپرستوں کی جانب سے بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنے، کسی دوسرے کو ایسا کرنے کی اجازت دینے یا اس استحصال کو روکنے میں غفلت برتنے پر سزا کا دائرہ بھی سخت کیا گیا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق پنجاب ویگرنسی (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری رکن صوبائی اسمبلی صفدر حسین ساہی کی زیر صدارت کمیٹی اجلاس میں دی گئی۔ مجوزہ ترامیم کا مقصد 1958 کے پنجاب ویگرنسی آرڈیننس میں بچوں کے تحفظ سے متعلق شقوں کو مضبوط بنانا، نفاذ کی ذمہ داریاں واضح کرنا اور انسدادِ گداگری کارروائیوں کو بحالی کے نظام کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
بل میں خلاف ورزی پر تین ماہ سے تین سال تک قید اور ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز شامل ہے۔ یہ سزا ان والدین اور سرپرستوں پر بھی لاگو ہو سکتی ہے جو بچوں کو گداگری کے لیے استعمال کریں، اس کی اجازت دیں یا قانونی معیار کے مطابق اسے روکنے میں غفلت کے مرتکب پائے جائیں۔ یہ ابھی کمیٹی سے منظور شدہ مجوزہ قانون ہے؛ اسے نافذ قانون سمجھنے سے پہلے صوبائی اسمبلی کے باقی قانون سازی مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔
مجوزہ فریم ورک میں سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کو کنٹرولر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس عہدے کو انسدادِ گداگری آپریشنز میں رابطہ کاری، فلاحی و بحالی مراکز کے معائنے، مرکزی ڈیٹا بیس کی دیکھ بھال، معیاری طریقہ کار جاری کرنے اور بحالی اسکیموں کی نگرانی کی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
کمیٹی کے منظور کردہ متن میں 2026 کے پہلے ترمیمی آرڈیننس کو منسوخ کرکے متعلقہ تبدیلیاں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے شامل کرنے کی تجویز ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سخت نفاذ کے ساتھ مناسب بحالی سہولتوں، تربیت یافتہ عملے اور سماجی تحفظ کی ضرورت اہم رہے گی، تاکہ کارروائی صرف گرفتاریوں تک محدود نہ ہو اور بچوں کو گداگری کی طرف دھکیلنے والے معاشی و سماجی عوامل سے بھی نمٹا جا سکے۔

