پنجاب حکومت کی بینکاری نظام سے بجٹ سپورٹ کے لیے قرض گیری رواں مالی سال کے ابتدائی سات ہفتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 145 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ڈان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یکم جولائی سے 21 اگست 2026 کے دوران پنجاب نے 753.4 ارب روپے قرض لیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 306.8 ارب روپے تھی۔

یہ اضافہ صوبائی مالیات میں نقدی کی ضروریات اور آمدن و اخراجات کے وقتی فرق کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم صرف قلیل مدتی بینک قرض کے حجم سے صوبے کی مجموعی مالی صحت پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومتیں وفاقی منتقلیوں، اپنی ٹیکس وصولیوں، ترقیاتی اخراجات، تنخواہوں اور دیگر جاری اخراجات کے درمیان نقدی کے انتظام کے لیے بینکاری نظام استعمال کرتی ہیں۔

اسی مدت میں وفاقی حکومت کی بجٹ سپورٹ کے لیے قرض گیری 571 ارب روپے بتائی گئی، جو پنجاب کے 753.4 ارب روپے سے کم تھی۔ صوبوں کی پوزیشن یکساں نہیں رہی: رپورٹ کے مطابق سندھ کے اسٹیٹ بینک میں 69.6 ارب روپے اور بلوچستان کے 43.4 ارب روپے کے ذخائر یا کریڈٹ بیلنس تھے، جبکہ خیبر پختونخوا نے تقریباً 1.8 ارب روپے قرض لیا۔ اسٹیٹ بینک کے حسابی طریقے میں سرکاری ڈپازٹس کے مثبت اور منفی نشانات کی تشریح عام بینک اکاؤنٹ سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے اعداد کو سرکاری تعریف کے مطابق پڑھنا ضروری ہے۔

پاکستان کے مالیاتی انتظام میں صوبوں سے مجموعی مالی سرپلس پیدا کرنے کی توقع بھی رکھی جاتی ہے تاکہ وفاقی مالی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ دوسری طرف صوبوں کی آمدن کا بڑا حصہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے آتا ہے۔ ڈان کے مطابق صوبائی آمدن میں وفاقی منتقلیوں کا حصہ بعض صورتوں میں 78 فیصد تک ہے، جس سے صوبائی مالیات وفاقی محصولات کی رفتار اور قومی مالی پالیسی سے گہری طرح منسلک رہتی ہیں۔

پنجاب کی قرض گیری میں تیز اضافے کی اصل وجوہات کا جامع جائزہ صوبائی بجٹ کی ماہانہ آمدن، اخراجات، وفاقی منتقلیوں اور کیش بیلنس کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ آئندہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار یہ دکھائیں گے کہ ابتدائی ہفتوں کا یہ بلند قرض مستقل رجحان بنتا ہے یا مالی سال کے دوران وصولیوں اور منتقلیوں کے ساتھ کم ہو جاتا ہے۔