پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ ای بائیک اسکیم کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے دو روز میں 4 لاکھ 32 ہزار طلبہ نے اسکیم کے لیے رجسٹریشن کی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب کے سرکاری ہینڈ آؤٹ اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق 2 لاکھ 65 ہزار طلبہ کی درخواستیں جمع کرانے کا عمل جاری ہے، جبکہ ایک لاکھ 8 ہزار سے زیادہ درخواستیں ضروری مراحل مکمل کرنے کے بعد جمع ہو چکی ہیں۔
ٹرانسپورٹ سیکریٹری عمران سکندر بلوچ کے مطابق طلبہ سرکاری پورٹل کے ذریعے 4 اکتوبر تک درخواست دے سکتے ہیں۔ اہلیت کے لیے پنجاب کا ڈومیسائل یا شناختی کارڈ بنیادی شرط ہے۔ درخواست گزار کا ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ سرکاری یا نجی ڈگری کالج یا یونیورسٹی کا باقاعدہ طالب علم ہونا ضروری ہے۔ عمر کم از کم 18 سال مقرر کی گئی ہے اور امیدوار کے پاس لرنر پرمٹ یا موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس ہونا چاہیے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق ایک خاندان سے صرف ایک طالب علم کو ای بائیک مل سکے گی۔ اسکیم میں طلبہ کے لیے ڈاؤن پیمنٹ ختم کر دی گئی ہے، جبکہ سود اور انشورنس کی لاگت پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔ ای بائیک حاصل کرنے والے طالب علم کو ماہانہ 3 ہزار 28 روپے قسط ادا کرنا ہوگی۔ حکومت ہر بائیک کے ساتھ ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ بھی بلا معاوضہ فراہم کرے گی۔
اسکیم کے تحت منتخب طلبہ کو الیکٹرک بائیک کے استعمال سے متعلق دو روزہ تربیت دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متعلقہ حکام کو درخواستوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد چھ ہفتوں کے اندر ای بائیکس کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
الیکٹرک بائیک اسکیم صوبائی حکومت کے طلبہ کے لیے نقل و حمل اور برقی گاڑیوں کے فروغ کے پروگرام کا حصہ ہے۔ تاہم 4 لاکھ 32 ہزار رجسٹریشن کا مطلب اتنی ہی بائیکس کی فوری منظوری یا تقسیم نہیں ہے؛ حتمی تعداد اہلیت، مکمل درخواستوں، دستیاب کوٹے اور انتخابی عمل سے طے ہوگی۔ سرکاری ہینڈ آؤٹ میں اس مرحلے میں تقسیم کی جانے والی کل بائیکس کی تعداد کی مکمل تفصیل دستیاب نہیں تھی۔
درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہلیت اور دستاویزات سے متعلق تازہ ہدایات سرکاری پورٹل سے دیکھیں، کیونکہ رجسٹریشن، درخواست کی تکمیل اور حتمی منظوری الگ مراحل ہیں۔




