لاہور: پنجاب ریونیو اتھارٹی اور ورلڈ بینک نے صوبے کے ٹیکس انتظامی نظام کو جدید بنانے، ٹیکس بیس وسیع کرنے اور محصولات کی وصولی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ورلڈ بینک کے وفد نے ریجنل ڈائریکٹر مائیکل روگی اور منیجر سلویا سولف کی قیادت میں پی آر اے چیئرمین معظم اقبال سپرا سے ملاقات کی۔

ملاقات میں ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے مؤثر استعمال، ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ منصوبے پر عمل درآمد اور ٹیکس انتظام میں بین الاقوامی طریقہ کار کے مطالعے پر بات ہوئی۔ پی آر اے چیئرمین کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کے ڈیٹا کو مربوط کرنے سے نئے کاروباروں کی شناخت، ریکارڈ میں تضادات کی نشاندہی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی تکنیکی اور مالی معاونت سے پنجاب ریونیو اتھارٹی اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ مشترکہ طور پر ڈیجیٹل ٹیکس اصلاحات کے لیے جامع منصوبہ تیار کریں گے۔ حکام نے اسے عملی روڈ میپ کی تیاری کی سمت پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم منصوبے کی مکمل مدت، لاگت اور قابل پیمائش اہداف کی تمام تفصیلات اس رپورٹ میں جاری نہیں کی گئیں۔

ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کا بنیادی مقصد کاروباری ریکارڈ اور سرکاری ڈیٹا کے بہتر استعمال کے ذریعے ٹیکس نیٹ کی وسعت اور وصولی کے عمل کی کارکردگی بڑھانا بتایا گیا ہے۔ پی آر اے کا مؤقف ہے کہ مربوط ڈیٹا ٹیکس چوری، ممکنہ بدعنوانی اور کاروباری ریکارڈ میں اختلافات کی نشاندہی میں معاون ہو سکتا ہے۔ ان دعوؤں کے عملی اثرات کا تعین نفاذ، ڈیٹا کے معیار، قانونی تحفظات اور نگرانی کے نتائج سے ہوگا۔

صوبائی حکومت کے لیے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن محض ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ انتظامی طریقہ کار کی تنظیم نو بھی ہوگی۔ نئے روڈ میپ میں محکموں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ، کاروباروں کی رجسٹریشن، تعمیل اور نگرانی کے طریقوں کو کس حد تک بدلا جاتا ہے، اس کی تفصیل آئندہ منصوبہ بندی اور سرکاری دستاویزات میں واضح ہونے کی توقع ہے۔