پنجاب انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے سموگ سیزن سے قبل دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے بھاری ٹرکوں، بسوں، ایس یو ویز اور ڈیزل ٹرانسپورٹ کو خصوصی نگرانی میں لے لیا ہے۔ ای پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق یکم مئی سے 31 اگست 2026 تک لاہور میں 1,745 گاڑیوں کے چالان کیے گئے اور 621 گاڑیاں بند کی گئیں۔
ادارے کے مطابق ماحولیاتی معیار کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 44 لاکھ 83 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ کارروائی کا مقصد موسم سرما سے پہلے گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں اور باریک ذرات کو کم کرنا ہے، کیونکہ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہری علاقوں میں سموگ کا مسئلہ ہر سال صحت اور ٹرانسپورٹ دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
ڈیزل انجن، ناقص ایندھن، خراب انجن ٹیوننگ اور پرانی بھاری گاڑیاں شہری فضائی آلودگی کے اہم ذرائع میں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم سموگ صرف ٹرانسپورٹ سے پیدا نہیں ہوتی؛ صنعتی اخراج، فصلوں کی باقیات جلانا، تعمیراتی گرد، موسمی حالات اور سرحد پار آلودگی سمیت متعدد عوامل مجموعی فضائی معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ای پی اے نے انفورسمنٹ ٹیموں کو گاڑیوں کے اخراج کی جانچ، فٹنس اور ماحولیاتی معیار کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ صرف جرمانوں کے بجائے مستقل بہتری کے لیے گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس جانچ، معیاری ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ اور کم اخراج والی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہوگی۔
پری سموگ کارروائی کا حقیقی اثر اکتوبر اور نومبر میں فضائی آلودگی کے شدید دور کے دوران واضح ہوگا۔ اگر انفورسمنٹ مسلسل رہے اور دیگر آلودگی ذرائع کے خلاف بھی متوازی اقدامات ہوں تو گاڑیوں سے پیدا ہونے والے اخراج میں کمی ممکن ہے۔ لاہور میں چار ماہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صوبائی ادارہ سموگ سے پہلے انفورسمنٹ کو معمول کے موسمی ردعمل کے بجائے پیشگی حکمت عملی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔




