لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ میں بیرسٹر حسان خان نیازی کی درخواست کے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریاست کے خلاف جرم میں سزا پانے والا شہری بنیادی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہ مؤقف صوبائی حکومت کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کا حصہ ہے اور اسے عدالتی فیصلہ یا حتمی قانونی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
حسان نیازی، جو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بھانجے ہیں، نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے میں خود کو فوج کے حوالے کیے جانے اور بعد کے فوجی ٹرائل کو چیلنج کر رکھا ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ہوم سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کے توسط سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں درخواست خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
رپورٹ میں 2005 کے لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہری کی پہلی ذمہ داری ریاست سے وفاداری ہے۔ صوبائی حکومت نے حسان نیازی کو سزا یافتہ قیدی قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اپیل کے قانونی راستے کے علاوہ دوسری عدالتی کارروائی کے ذریعے رہائی کی کوشش قابلِ سماعت نہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں فوج کے حوالے کرنے کے لیے الگ عدالتی حکم ضروری نہیں تھا کیونکہ اس وقت وہ نہ عدالتی تحویل میں تھے اور نہ ریمانڈ پر۔
رپورٹ کے مطابق حسان نیازی نے پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 133-B کے تحت اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔ حکومت نے استدلال کیا کہ ایک ہی قانونی سوال کو بیک وقت دو مختلف فورمز پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس بنیاد پر صوبائی حکام نے آئینی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض کیا ہے۔
کیس کا پس منظر 9 مئی 2023 کے لاہور کے جناح ہاؤس واقعے سے جڑا ہے۔ پولیس نے حسان نیازی کو اگست 2023 میں خیبر پختونخوا سے گرفتار کیا تھا۔ اگلے روز فوجی حکام نے ان کی تحویل مانگی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ ان سے منسوب بعض الزامات آفیشل سیکرٹس ایکٹ اور پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت آتے ہیں۔ بعد میں انہیں فوجی عدالت سے دسمبر 2024 میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
وزارت دفاع نے بھی عدالت میں الگ جواب جمع کرایا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارت نے حسان نیازی کے جناح ہاؤس جانے اور وہاں ویڈیوز بنانے سمیت بعض اقدامات سے متعلق دعوے پیش کیے ہیں۔ یہ الزامات اور سرکاری مؤقف عدالتی جانچ کے تابع ہیں، جبکہ درخواست گزار کو دستیاب اپیل اور دیگر قانونی حقوق کا حتمی دائرہ متعلقہ عدالتوں کے فیصلوں سے متعین ہوگا۔
سپریم کورٹ نے مئی 2025 میں فوجی عدالتوں سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر فیصلہ دیتے ہوئے فوجی ٹرائلز برقرار رکھے تھے اور ملزمان کے لیے اپیل کا حق تسلیم کیا تھا۔ موجودہ لاہور ہائیکورٹ کارروائی میں بنیادی سوال حسان نیازی کی تحویل، دستیاب قانونی چارہ جوئی اور آئینی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت کے مؤقف پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں سنایا، اس لیے رپورٹ میں دی گئی قانونی تشریح کو حکومت کا موقف ہی سمجھا جائے گا۔

