اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک ایم فور موٹروے کے حصے کو چار سے چھ لین کرنے کا کام 2027 کے آغاز تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اعلان ملک کے اہم موٹروے نیٹ ورک پر ٹریفک گنجائش بڑھانے اور نقل و حمل کے دباؤ کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ڈان کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیر مواصلات نے ایم فور کی توسیع کے منصوبے کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ سیکشن پر اضافی لینز کی تعمیر چند ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ فیصل آباد اور پنڈی بھٹیاں کے درمیان یہ رابطہ وسطی پنجاب کے صنعتی اور تجارتی علاقوں کو قومی موٹروے نیٹ ورک سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
موٹروے پر لینز کی تعداد بڑھانے کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی ٹریفک کے لیے گنجائش پیدا کرنا اور مال بردار و مسافر گاڑیوں کی آمدورفت کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ فیصل آباد ملک کا بڑا صنعتی مرکز ہے، اس لیے اس روٹ پر سڑک کی گنجائش میں اضافہ تجارتی نقل و حمل کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم منصوبے کے مکمل معاشی اثرات کا تعین تعمیر مکمل ہونے اور عملی استعمال کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
وزیر مواصلات نے ملک کے شاہراہوں کے نظام سے متعلق دیگر منصوبوں کا بھی حوالہ دیا اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کو حکومتی ترجیح قرار دیا۔ سڑکوں اور موٹرویز کے منصوبوں میں مقررہ مدت، تعمیراتی معیار اور اخراجات پر قابو ایسے عوامل ہیں جن پر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار ہوتا ہے۔
ایم فور کی توسیع کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹریفک کے حجم میں اضافے کے باعث کئی اہم حصوں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت سامنے آ رہی ہے۔ چھ لین کا سیکشن مکمل ہونے کی صورت میں فیصل آباد اور پنڈی بھٹیاں کے درمیان گاڑیوں کی تقسیم کے لیے اضافی گنجائش دستیاب ہوگی۔
حکومت نے تکمیل کے لیے 2027 کے آغاز کا ہدف بتایا ہے۔ یہ فی الحال سرکاری طور پر بیان کردہ ٹائم لائن ہے؛ منصوبے کی حتمی تکمیل کی تاریخ تعمیراتی پیش رفت، تکنیکی ضروریات اور متعلقہ اداروں کی عملی کارکردگی سے مشروط رہے گی۔
