لاہور: پنجاب حکومت نے آئندہ تین سال کے دوران دس لاکھ نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں صوبے میں جاری اور مجوزہ اسکل ڈویلپمنٹ منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور تربیت کو صنعت، روزگار اور نئی ٹیکنالوجی کی ضروریات سے جوڑنے کے لیے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پنجاب کا پہلا جدید ووڈ ورکنگ سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کے ساتھ الیکٹریکل، وہیکل ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبوں میں مراکزِ مہارت بنانے کی منظوری دی گئی۔ زرعی شعبے اور بھاری مشینری چلانے والوں کے لیے سرٹیفکیشن پروگرام بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ صوبائی حکومت نے امتحانی نظام میں آن لائن رجسٹریشن، ڈیجیٹل پرچوں اور کیو آر کوڈز کے استعمال کی سمت پیش رفت کی ہدایت بھی دی۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پنجاب میں اب تک چار لاکھ نوجوانوں کی اسکل ٹریننگ مکمل ہو چکی ہے اور ان میں 45 فیصد سے زیادہ نے روزگار حاصل کیا۔ بریفنگ کے مطابق اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ کے تحت تربیت پانے والوں میں تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار افراد روزگار حاصل کر چکے ہیں، جن میں 38 ہزار سے زیادہ افراد کو بیرون ملک ملازمتیں ملیں۔
نئے پروگراموں میں 'ماہر' کے تحت لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ملتان کے صنعتی کلسٹرز میں 25 ہزار نوجوانوں کی تربیت شامل ہے۔ 'گلوبل روزگار' پروگرام کے ذریعے مزید 25 ہزار نوجوانوں کو بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ کے شعبے کے لیے تیار کرنے جبکہ 'ایڈوانس ٹیک' کے تحت 7,500 نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجیز میں بین الاقوامی سرٹیفکیشن دینے کا منصوبہ ہے۔
تقریباً 2.6 ارب روپے کے 'ہریالی' پروگرام میں 20 ہزار نوجوانوں کو زراعت اور سبز ماحول سے متعلق شعبوں میں تربیت دینے کی تجویز ہے۔ اجلاس میں معذور افراد، خواجہ سرا افراد اور دیہی خواتین کے لیے پہلے سے جاری یا مجوزہ تربیتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق 69 ٹیوٹا اداروں میں یورپی کوالیفکیشن فریم ورک کے مطابق سالانہ 45,700 نوجوانوں کی تربیت کی گنجائش پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد محض تربیتی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ نوجوانوں کو مقامی صنعت، خود روزگاری اور بیرون ملک ملازمتوں کے قابل بنانا ہے۔ تاہم تین سال میں دس لاکھ افراد کے ہدف کی کامیابی کا انحصار تربیت کے معیار، صنعت کی طلب، روزگار کے حقیقی مواقع اور پروگراموں کی مسلسل مانیٹرنگ پر ہوگا۔

