پشاور: خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے ایک نئے مریض کی تشخیص کے بعد رواں سال صوبے میں رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد 19 ہوگئی ہے، جبکہ حالیہ مریضوں میں بیرون ملک سفر کی تاریخ نہ ہونے کے باعث طبی حلقوں نے مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کے امکان پر توجہ دلائی ہے۔ تازہ مریض چترال میں رپورٹ ہوا اور دستیاب معلومات کے مطابق اس نے بھی بیرون ملک سفر نہیں کیا تھا۔

محکمہ صحت کے ریکارڈ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایک ہی روز چار ایم پاکس کیسز سامنے آئے تھے اور ان مریضوں میں بھی غیر ملکی سفر کی تاریخ نہیں تھی۔ ان میں ایک جوڑا بھی شامل تھا۔ اس کے بعد چترال کے نئے کیس نے اس امکان کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ کم از کم بعض انفیکشن مقامی رابطوں کے ذریعے منتقل ہوئے ہوں۔ تاہم مقامی transmission کے وسیع پیمانے یا کسی مخصوص سلسلۂ انتقال کی حتمی سرکاری تصدیق ابھی الگ وبائیاتی تحقیقات سے مشروط ہے۔

ایک سینئر ماہرِ امراض جلد نے خدشہ ظاہر کیا کہ چترال کا مریض کسی مقامی متاثرہ شخص سے وائرس حاصل کر سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی بدنامی یا نجی نوعیت کی علامات کے باعث بعض افراد معائنہ یا ٹیسٹ کرانے سے گریز کر سکتے ہیں، جس سے اصل تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس نوعیت کے طبی تبصروں کو موجودہ کیسز کی epidemiological investigation کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ یہ مزید screening اور رابطوں کی جانچ کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایم پاکس قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ جلد یا جسمانی رطوبتوں اور بعض حالات میں آلودہ اشیا کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ عالمی صحت اداروں نے بیماری کو صرف کسی ایک قسم کے رابطے تک محدود قرار نہیں دیا؛ اس لیے مریضوں کی شناخت، مناسب طبی نگہداشت، رابطوں کی نگرانی اور عوام کو درست معلومات کی فراہمی اہم اقدامات ہیں۔ علامات میں بخار، جسم میں درد، لمف نوڈز کی سوجن اور جلد پر دانے یا زخم شامل ہو سکتے ہیں، تاہم تشخیص طبی معائنے اور ضرورت کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹنگ سے کی جاتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ کیسز کا اہم پہلو یہ ہے کہ بیرون ملک سفر سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں پاکستان میں رپورٹ ہونے والے متعدد ایم پاکس کیسز مسافروں سے منسلک رہے ہیں، اس لیے ایسے مریض جن کی travel history نہ ہو، مقامی transmission کی نگرانی کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ صحت حکام کے لیے اگلا مرحلہ متاثرہ افراد کے ممکنہ رابطوں، علامات کے آغاز، جغرافیائی تعلق اور لیبارٹری نتائج کو یکجا کرکے منتقلی کے سلسلے کو سمجھنا ہے۔

موجودہ اعداد و شمار صوبے میں 19 رپورٹ شدہ کیسز کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن یہ تعداد خود بخود کمیونٹی میں وسیع وبا ثابت نہیں کرتی۔ اسی طرح ماہرین کا مقامی منتقلی کا خدشہ ایک اہم epidemiological signal ہے جسے مزید تحقیق، surveillance اور testing کے ذریعے جانچنے کی ضرورت ہے۔