پنجاب حکومت نے صوبے میں صاف پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے لاسٹ مائل واٹر سپلائی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور میں صاف پانی اتھارٹی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی شہریوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت ایسے علاقوں تک فراہمی بڑھانا چاہتی ہے جہاں موجودہ نظام مکمل ضرورت پوری نہیں کرتا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق نئے منصوبے کے تحت چکوال، راولپنڈی اور راجن پور کے مزید متاثرہ علاقوں تک پانی پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبے بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کا بھی جائزہ لیا گیا اور وزیراعلیٰ نے ان کی تکمیل کے لیے آئندہ جون کی ڈیڈ لائن مقرر کی۔
منصوبے کی نگرانی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو براہ راست ذمہ داری دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز کو فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی کا ذمہ دار مقرر کیا تاکہ تنصیب کے بعد ان کی فعالیت، دیکھ بھال اور عوامی رسائی پر مقامی سطح پر جواب دہی قائم رہے۔ اس فیصلے کا مقصد صرف نئی تنصیبات لگانا نہیں بلکہ انہیں مسلسل قابل استعمال رکھنا بھی ہے۔
صاف پانی کے منصوبوں میں عموماً پانی کے منبع، معیار، فلٹریشن ٹیکنالوجی، بجلی کی دستیابی، دیکھ بھال اور مقامی تقسیم جیسے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ سرکاری اعلان میں مجموعی ہدف اور منتخب اضلاع کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ہر مقام کی لاگت، تکمیل کی الگ تاریخ اور تکنیکی تفصیلات ابھی عوامی رپورٹ میں مکمل طور پر بیان نہیں کی گئیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ لاسٹ مائل ماڈل کا مقصد مرکزی یا موجودہ پانی کے نظام سے ان آبادیوں تک رسائی بڑھانا ہے جو آخری مرحلے کی تقسیم میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ منصوبے کی عملی پیش رفت کا اندازہ آنے والے مہینوں میں فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب، فعال یونٹس کی تعداد اور متعلقہ اضلاع میں پانی کی حقیقی فراہمی کے اعداد و شمار سے ہوگا۔

