لاہور: پنجاب کے آئندہ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ دعویٰ غلط ہے کہ کونسلر کے امیدوار کے لیے کم از کم ایف اے، یونین کونسل چیئرمین کے لیے بی اے اور دونوں کے لیے کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے فیکٹ چیک کے مطابق الیکشن کمیشن نے گرافک کو جعلی قرار دیا اور واضح کیا کہ ایسی شرائط اس کی جانب سے جاری نہیں ہوئیں۔
وائرل گرافک 23 اگست سے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر ہوا۔ اس پر الیکشن کمیشن کا لوگو استعمال کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ معلومات سرکاری ہیں۔ گرافک میں تعلیمی قابلیت کے ساتھ کریکٹر سرٹیفکیٹ کی لازمی شرط کا بھی دعویٰ کیا گیا، مگر الیکشن کمیشن پنجاب کی ترجمان ہدیٰ علی گوہر نے تصدیق کی کہ ادارے نے یہ مواد جاری نہیں کیا۔ لوگو کی موجودگی کسی غیر مصدقہ گرافک کو سرکاری نوٹیفکیشن نہیں بناتی۔
الیکشن کمیشن نے 28 اگست کی پریس ریلیز میں بھی اس دعوے کی تردید کی۔ فیکٹ چیک کے مطابق ادارے نے صاف کہا کہ یونین کونسل چیئرمین کے لیے بی اے، کونسلر کے لیے ایف اے اور امیدواروں کے لیے کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی ہونے کی معلومات درست نہیں۔ اس لیے امیدواروں یا ووٹرز کو اہلیت کے بارے میں فیصلہ غیر رسمی سوشل میڈیا پوسٹ کے بجائے قانون، قواعد اور الیکشن کمیشن کے باقاعدہ اعلامیوں سے کرنا چاہیے۔
متعلقہ قانونی متن بھی وائرل دعوے کی حمایت نہیں کرتا۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی دفعہ 67 میں امیدواروں کی اہلیت اور نااہلی کے تقاضے درج ہیں، جن میں متعلقہ انتخابی فہرست میں رجسٹریشن اور مقررہ کم از کم عمر جیسے نکات شامل ہیں۔ فیکٹ چیک کے مطابق اس دفعہ میں کونسلر کے لیے ایف اے یا بلدیاتی حکومت کے سربراہ کے لیے بی اے کی لازمی شرط موجود نہیں۔
اسی طرح پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2026 میں بھی ایف اے، بی اے یا کریکٹر سرٹیفکیٹ کو لازمی اہلیت کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امیدواروں پر کوئی قانونی شرط نہیں؛ صرف زیر گردش تین مخصوص شرائط کا دعویٰ غلط ہے۔ دیگر قانونی اہلیت، کاغذات نامزدگی، عمر، انتخابی فہرست اور نااہلی کی دفعات اپنی جگہ نافذ رہیں گی۔
یہ خبر خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ جعلی سرکاری گرافکس ممکنہ امیدواروں کو بلا وجہ انتخابی عمل سے دور کرسکتے ہیں اور ووٹرز میں غلط فہمی پیدا کرتے ہیں۔ درست نتیجہ یہ ہے کہ زیر گردش گرافک جعلی ہے اور مذکورہ تعلیمی و کریکٹر سرٹیفکیٹ کی لازمی شرائط متعلقہ قانون اور قواعد میں درج نہیں۔ کسی بعد کے قانونی ترمیم یا سرکاری نوٹیفکیشن کی صورت میں نئی دستاویز الگ سے جانچنا ضروری ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




