لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کو برآمدات پر مبنی صنعتی مرکز بنانے کے ہدف کے ساتھ پنجاب انوویشن فار ویلیو، اپرچونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن (PIVOT) پلان 2026-29 کا آغاز کر دیا ہے۔ تقریباً دو کھرب روپے کے اس اقتصادی فریم ورک میں صنعتی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، برآمدات، روزگار، توانائی اور کاروباری سہولت کاری کے لیے متعدد پروگرام شامل کیے گئے ہیں۔

منصوبے کے مطابق تین سال میں 6.8 ارب ڈالر اضافی برآمدات، 162 ہزار نئی براہ راست ملازمتیں اور دس لاکھ سے زیادہ خاندانوں کی معاونت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا ماحول بنانا ہے جہاں نجی کاروبار سرمایہ کاری اور توسیع کر سکیں، جبکہ سرکاری شعبہ سہولت کاری اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی پر توجہ دے۔

PIVOT کے مالیاتی ڈھانچے میں 1,089 ارب روپے سرکاری سرمایہ کاری اور 906 ارب روپے نجی شعبے سے سرمایہ کاری کا ہدف شامل ہے۔ صنعتی پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور طویل مدتی برآمدی مسابقت کے لیے 753.7 ارب روپے مختص کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹریٹجک ٹریڈ انہانسمنٹ پروگرام کے تحت اہل کاروباری شعبوں کے لیے صفر سے پانچ فیصد تک شرح پر 300 ارب روپے کی رعایتی فنانسنگ کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو پروگرام کی شرائط سے مشروط ہوگی۔

توانائی اخراجات کم کرنے کے لیے سولر پاور اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے لیے 50 ارب روپے جبکہ صنعتی مشینری کی ڈیوٹی واپسی کے لیے مزید 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ توجہ ٹیکسٹائل و گارمنٹس، کھیلوں کے سامان، چمڑے و جوتوں، سرجیکل آلات، ادویات، پنکھوں، کٹلری، اسٹیل اور سیرامکس جیسی ویلیو چینز پر ہوگی۔ سَرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں چار خصوصی ایگرو پروسیسنگ پارکس بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے E-Biz اقدام کے ذریعے 300 سرکاری انتظامی خدمات ڈیجیٹل کرنے اور دو ہزار کمپنیوں کو ای کامرس پلیٹ فارمز پر لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ عملدرآمد کی نگرانی PIVOT بورڈ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں سیکریٹریٹ اور چیف سیکریٹری آفس کے خصوصی سیل کے ذریعے کی جائے گی۔ منصوبے کے اعلان کردہ اہداف آئندہ تین برس کی پالیسی سمت متعین کرتے ہیں؛ ان کی کامیابی عملی سرمایہ کاری، نجی شعبے کی شمولیت اور طے شدہ پروگراموں کے بروقت نفاذ سے مشروط ہوگی۔