وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی پولیس کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ مطلوبہ کارکردگی نہ دکھانے والے ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے ریجنل اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے خصوصاً خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم پر تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں ہر ضلع کی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس نے صوبے کی مجموعی سکیورٹی اور حالیہ سنگین واقعات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے راولپنڈی ڈویژن کی صورتحال پر خاص تشویش ظاہر کرتے ہوئے سنگین جرائم، غیر قانونی اسلحہ اور پولیس کے اندر کرپشن کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے غیر قانونی ہتھیار ضبط کرنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات پر بھی زور دیا۔

مریم نواز نے ٹریفک انتظامات پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے تیز رفتاری کے خلاف مؤثر کارروائی کا حکم دیا۔ انہوں نے پولیس میں انسداد بدعنوانی مہم تیز کرنے، منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن بڑھانے اور جرائم کے ہاٹ سپاٹس اور منظم نیٹ ورکس کی نشاندہی کے لیے جامع اقدامات کی ہدایت بھی کی۔ تمام آر پی اوز کو ہفتہ وار اجلاس کرکے جرائم کی مختلف اقسام کا جائزہ لینے اور متعلقہ ڈی پی اوز کی کارکردگی رپورٹس جمع کرانے کا کہا گیا۔

وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں پولیس گشت نمایاں بنانے، لاہور میں ڈولفن فورس کی مؤثر پٹرولنگ یقینی بنانے اور اسے ضروری موٹر سائیکلیں و سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں پولیس اہلکاروں کی فلاح اور دوران ڈیوٹی جان دینے والے اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے مالی پیکج کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکام نے اجلاس میں صوبائی جرائم کی شرح میں کمی کے اعداد و شمار پیش کیے، تاہم وزیراعلیٰ کی چار ہفتوں کی ہدایت سے واضح ہے کہ حکومت موجودہ صورتحال کو مزید بہتری کا متقاضی سمجھتی ہے۔ آئندہ کارکردگی کا جائزہ پولیس کے عملی نتائج اور ضلعی سطح کی رپورٹس کی بنیاد پر ہوگا۔