لاہور: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے صوبے بھر میں جعلی، کلون، تبدیل شدہ یا جان بوجھ کر چھپائی گئی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق جدید نگرانی کے کیمروں اور خودکار الرٹ نظام کو لاہور سمیت 43 اسمارٹ سیف سٹیز میں مشکوک رجسٹریشن نمبروں کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈان نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سیف سٹیز کیمروں کو ایسی نمبر پلیٹوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو جعلی ہوں، کسی دوسری گاڑی سے کلون کی گئی ہوں یا ان میں ردوبدل کیا گیا ہو۔ ایسے رجسٹریشن نمبرز بھی نگرانی میں شامل ہیں جنہیں ٹیپ، کپڑے یا کسی دوسری چیز سے جزوی یا مکمل طور پر چھپانے کی کوشش کی گئی ہو۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق نگرانی کا نظام مشکوک نمبر پلیٹ سامنے آنے پر فوری الرٹ پیدا کرتا ہے۔ ان الرٹس کی بنیاد پر متعلقہ ٹیمیں گاڑی کا سراغ لگاتی ہیں اور رجسٹریشن ریکارڈ یا دیگر دستیاب معلومات سے تصدیق کے بعد کارروائی کی جاتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ لاہور اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں متعدد مشکوک گاڑیوں کا سراغ لگا کر انہیں قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لیا جا چکا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق جعلی، کلون یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹ استعمال کرنے والوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سمیت قانونی کارروائی جاری ہے۔ تاہم کسی مخصوص گاڑی یا ڈرائیور کے خلاف الزام کا حتمی قانونی نتیجہ متعلقہ تفتیش اور عدالتی عمل کے بعد ہی طے ہوگا۔ خودکار کیمرے کا الرٹ بنیادی طور پر شناخت اور جانچ کا ابتدائی ذریعہ ہے، اسے بذات خود کسی شخص کے جرم کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
کلون نمبر پلیٹوں کا مسئلہ ٹریفک قوانین کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ایک گاڑی کا رجسٹریشن نمبر دوسری گاڑی پر استعمال ہونے کی صورت میں جرمانے، نگرانی کے ریکارڈ یا کسی واقعے کی ابتدائی شناخت غلط مالک سے منسلک ہو سکتی ہے۔ اسی طرح نمبر پلیٹ کو چھپانے یا اس میں ردوبدل سے کیمرہ بیسڈ ٹریفک انفورسمنٹ اور گاڑیوں کی شناخت متاثر ہو سکتی ہے۔
سیف سٹیز نظام میں خودکار نمبر پلیٹ شناخت اور وسیع کیمرہ نیٹ ورک کے استعمال سے حکام کو بڑی تعداد میں گاڑیوں کی نگرانی نسبتاً تیزی سے کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ڈیٹا کی درستگی، رجسٹریشن ریکارڈ کی بروقت اپ ڈیٹ اور غلط شناخت کی صورت میں فوری تصحیح بھی اہم ہے، تاکہ قانونی گاڑی مالکان غیر ضروری کارروائی سے محفوظ رہیں۔
تازہ کریک ڈاؤن پنجاب میں ٹریفک اور شہری نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کی ایک مثال ہے۔ اتھارٹی نے کارروائی کو صوبہ گیر قرار دیا ہے اور 43 اسمارٹ سیف سٹیز میں دستیاب نگرانی کے نظام کو اس مہم کا حصہ بنایا ہے۔ شہریوں کے لیے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ گاڑی پر اصل، واضح اور قانونی رجسٹریشن پلیٹ استعمال کی جائے اور نمبر کو چھپانے یا تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے۔

