لاہور: وفاقی حکومت نے بجلی چوری، لائن لاسز اور لوڈ مینجمنٹ کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے Asset Performance Management System (APMS) متعارف کرانے کی تیاری کر لی ہے۔ منصوبے کا ابتدائی پائلٹ لاہور اور قصور سے شروع کیا جائے گا اور نتائج کی بنیاد پر اسے مرحلہ وار دوسرے علاقوں تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
حکام کے مطابق اے پی ایم ایس کو اسمارٹ میٹروں اور بجلی کی تقسیم کے نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ کھپت، ترسیل اور تقسیم سے متعلق ڈیٹا زیادہ تیزی سے دستیاب ہو سکے۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کسی فیڈر، ٹرانسفارمر یا مخصوص علاقے میں بجلی کہاں استعمال ہو رہی ہے اور کس مقام پر تکنیکی نقصان یا غیر قانونی استعمال کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔
موجودہ نظام میں بجلی کی طلب، فراہمی اور نقصانات سے متعلق متعدد معلومات مختلف سطحوں پر جمع ہوتی ہیں۔ نئے پلیٹ فارم کے ذریعے ان معلومات کو ایک مربوط ڈیجیٹل نظام میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ تقسیم کار کمپنیوں اور متعلقہ حکام کو حقیقی وقت کے قریب ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد مل سکے۔ اسمارٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والے اعداد کو اے پی ایم ایس کے ساتھ جوڑنے سے بجلی کی کھپت کے رجحانات اور غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی بھی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔
منصوبے کا ایک اہم ہدف بجلی کے نقصان یا چوری کے مقام کی زیادہ درست شناخت ہے۔ اگر کسی مخصوص حصے میں فراہم کی گئی بجلی اور ریکارڈ شدہ کھپت کے درمیان غیر معمولی فرق سامنے آئے تو حکام متعلقہ نیٹ ورک حصے کی جانچ کر سکیں گے۔ اس سے پورے علاقے میں عمومی کارروائی کے بجائے نسبتاً ہدفی معائنہ اور اصلاحی اقدامات ممکن ہو سکتے ہیں۔
حکومت اس نظام کو لوڈشیڈنگ اور لوڈ مینجمنٹ کے عمل سے بھی جوڑنا چاہتی ہے۔ بہتر ڈیٹا دستیاب ہونے کی صورت میں بجلی کی طلب اور نیٹ ورک کی استعداد کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں گے، جبکہ تقسیم کار اداروں کو اپنے اثاثوں، فیڈرز اور ٹرانسفارمرز کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔
پائلٹ مرحلے میں لاہور اور قصور کا انتخاب اس لیے اہم ہے کہ یہاں نظام کو عملی حالات میں آزمایا جائے گا۔ اس مرحلے کے نتائج، تکنیکی خامیاں اور ڈیٹا کے معیار کا جائزہ لینے کے بعد قومی سطح پر توسیع کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار اسمارٹ میٹرنگ کے پھیلاؤ، درست ڈیٹا، تقسیم کار کمپنیوں کے آپریشنل نظام اور بروقت کارروائی کی صلاحیت پر ہوگا۔ حکومت اسے بجلی کے شعبے میں ڈیجیٹل نگرانی اور کارکردگی بہتر بنانے کی وسیع اصلاحاتی کوشش کا حصہ قرار دے رہی ہے۔

