پنجاب اسمبلی نے اسکلز ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ اتھارٹی بل 2026 منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں فنی و پیشہ ورانہ تربیت، ہنر مندی اور کاروباری صلاحیت کے مختلف پروگراموں کو زیادہ مربوط ادارہ جاتی فریم ورک میں لانا ہے۔
نئی اتھارٹی سے توقع ہے کہ وہ تربیتی پروگراموں کو مارکیٹ کی طلب سے جوڑنے، معیار کی نگرانی اور نوجوانوں کو روزگار یا کاروبار کے لیے عملی مہارت فراہم کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ پنجاب میں نوجوان آبادی کی بڑی تعداد کے باعث اسکلز پالیسی روزگار اور صنعتی ترقی دونوں کے لیے اہم ہے۔
فنی تربیت کے شعبے میں مختلف اداروں اور پروگراموں کی موجودگی کے باعث ذمہ داریوں کے اوورلیپ اور معیار میں فرق کا مسئلہ سامنے آتا رہا ہے۔ نئی قانون سازی کا عملی فائدہ اسی صورت ہوگا جب ادارہ جاتی اختیارات واضح ہوں اور موجودہ نظام کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی قائم کی جائے۔
کاروباری تربیت کو قانون کے عنوان میں شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت صرف ملازمت کے لیے ہنر کے بجائے خود روزگاری اور چھوٹے کاروباروں کو بھی پالیسی کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔ اس کے لیے تربیت کے ساتھ فنانس، مارکیٹ رسائی اور کاروباری رہنمائی بھی اہم ہوگی۔
بل کی اسمبلی سے منظوری قانون سازی کا اہم مرحلہ ہے، مگر عملی نفاذ قواعد، بجٹ، انتظامی تقرریوں اور پروگرام ڈیزائن سے ہوگا۔ نئی اتھارٹی کی کامیابی کا پیمانہ تربیت مکمل کرنے والوں کی تعداد نہیں بلکہ روزگار، آمدن اور کاروباری نتائج میں قابل پیمائش بہتری ہونا چاہیے۔




