اسلام آباد: قطر انرجی کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی پر فورس میژور کی مدت 29 دسمبر تک بڑھائے جانے کے بعد پاکستان میں موسم سرما کے دوران گیس کی دستیابی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق دسمبر اور جنوری میں گھریلو گیس کی طلب عموماً بڑھ جاتی ہے، اس لیے قطری کارگو میں رکاوٹ صنعتی اور بجلی کے شعبوں کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت گھریلو صارفین کی ضروریات کو ترجیح دینے، ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ سے اضافی ایل این جی خریدنے اور بجلی کی پیداوار میں متبادل ایندھن استعمال کرنے سمیت مختلف انتظامی راستوں پر غور کر رہی ہے۔ تاہم اسپاٹ مارکیٹ سے کارگو کی خریداری طویل مدتی معاہدوں کے مقابلے میں کہیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک کارگو کی لاگت 80 سے 90 ملین ڈالر تک پہنچنے کا امکان بیان کیا گیا ہے، اگرچہ اصل قیمت خریداری کے وقت عالمی مارکیٹ کی صورت حال پر منحصر ہوگی۔
پاکستان اپنی درآمدی ایل این جی کے ایک اہم حصے کے لیے قطر پر انحصار کرتا ہے۔ قطر انرجی نے رواں سال مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے تنازع کے دوران اپنی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیداوار متاثر ہونے پر فورس میژور کا اعلان کیا تھا۔ اب اس مدت میں توسیع سے ایسے وقت میں سپلائی پلاننگ مشکل ہو سکتی ہے جب سرد موسم میں گھریلو طلب عروج پر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر درآمدی دستیابی محدود رہی تو بجلی گھروں، صنعتوں، کھاد اور سیمنٹ کے کارخانوں اور سی این جی شعبے کو رسد میں پابندیوں یا ترجیحی تقسیم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام نے تاہم یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ دستیاب مقامی گیس، متبادل ایندھن اور ضرورت کے مطابق اسپاٹ خریداری کو ملا کر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی جائے گی۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے سربراہ کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوبی پاکستان میں ایک نئے گیس فیلڈ سے پیداوار درآمدی ایل این جی پر انحصار میں کچھ کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے باوجود سردیوں کی طلب، عالمی قیمتوں اور خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل کی صورتحال پاکستان کے لیے اہم متغیرات رہیں گے۔
فورس میژور ایک معاہداتی شق ہے جس کے تحت غیر معمولی اور فریق کے قابو سے باہر حالات میں سپلائر بعض معاہداتی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل سے عارضی استثنا حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے قطر انرجی کی توسیع کو مستقل سپلائی منسوخی نہیں سمجھا جا سکتا، البتہ پاکستان کے لیے آئندہ دو ماہ کی گیس اور بجلی کی منصوبہ بندی میں اس کا عملی اثر اہم ہوگا۔

