اسلام آباد: قطر اور سعودی عرب نے خلیجی پانیوں میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے ٹینکر المیدہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بحری نقل و حرکت اور عالمی توانائی رسد کے لیے خطرناک واقعہ قرار دیا ہے۔ عرب نیوز پاکستان کے مطابق مارشل آئی لینڈز کے پرچم والے جہاز پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ قطر سے ایل این جی لے کر پاکستان کی جانب بڑھ رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا۔ بلومبرگ نے معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے جہاز کے محفوظ گزرنے کے لیے ایران سے رابطہ کیا تھا اور مبینہ طور پر ایرانی حکام کی جانب سے راستہ کھولنے کا اشارہ ملنے کے چند گھنٹے بعد ٹینکر نشانہ بنا۔ اس دعوے کی آزادانہ سرکاری تصدیق پاکستان کی جانب سے سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے رپورٹ شدہ معلومات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
قطری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ متعلقہ حکام نے واقعے کے حالات اور ذمہ دار فریق کے تعین کے لیے ضروری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دوحہ نے یہ بھی کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے اثاثوں، بحری جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ قطر نے توانائی بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے ممکنہ ماحولیاتی اور علاقائی سلامتی کے اثرات پر بھی خبردار کیا۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی قطری کمپنی کی ملکیت والے ایل این جی کیریئر کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور کہا کہ مملکت بحری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی رسد کو خطرے میں ڈالنے والی خلاف ورزیوں کو مسترد کرتی ہے۔ حملے کی ذمہ داری کے بارے میں دستیاب رپورٹوں میں کسی فریق کی حتمی شناخت نہیں کی گئی، اس لیے کسی ریاست یا گروہ کو ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران تجارتی جہاز رانی پہلے ہی شدید خطرات سے دوچار رہی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے، اس لیے خلیجی سمندری راستوں میں رکاوٹ یا بیمہ اور فریٹ لاگت میں اضافہ مقامی توانائی رسد اور قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق واقعے پر پاکستان کی جانب سے فوری عوامی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ اسلام آباد خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ واقعے میں اہم سوال یہ ہیں کہ حملہ کس نے کیا، جہاز کو کس نوعیت کا نقصان پہنچا اور آیا اس سے پاکستان کے لیے طے شدہ ایل این جی سپلائی شیڈول متاثر ہوگا۔ ان نکات پر حتمی نتیجہ قطر کی تحقیقات اور متعلقہ بحری و سرکاری اداروں کی تصدیق کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔
