قطر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر علاقائی تصادم کو روکنے کے لیے اس کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے مطابق واشنگٹن اب بھی کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آمادہ ہے اور حالیہ رابطوں میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات ختم کرنے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
رائٹرز کے مطابق قطری وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کو ایک مثالی یا ہر مطالبہ پورا کرنے والے معاہدے کے بجائے ایسے قابلِ عمل حل کی طرف بڑھنا چاہیے جو جنگ کے دوبارہ پھیلاؤ کو روک سکے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد یہ خدشات موجود ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ نئے امریکی یا اسرائیلی حملوں کی صورت میں خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے قشم جزیرے پر دو میزائل لگنے کی ابتدائی اطلاعات دی ہیں، تاہم نقصان سے متعلق سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور امریکا نے ایران کے اندر کسی نئے حملے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ اس لیے ان اطلاعات کو حتمی طور پر امریکی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مذاکراتی اختلافات میں آبنائے ہرمز، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں یا ناکہ بندی، منجمد ایرانی اثاثے اور جوہری معاملہ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے ستمبر سے ایک سات روزہ منصوبہ پیش کر رکھا ہے جس میں امریکی اقدامات میں نرمی اور آبنائے ہرمز کے راستے سے متعلق شرائط شامل ہیں، لیکن صدر ٹرمپ اس تجویز کو قبول نہیں کر چکے۔
قطر ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں اور قیدیوں یا مالی معاملات سے متعلق مذاکرات میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ کوششوں کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ خلیج میں کسی نئی فوجی کشیدگی کا اثر توانائی کی ترسیل، عالمی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور خطے کے متعدد ممالک کی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔ فی الحال کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے قطری بیان کو جاری سفارتی عمل میں پیش رفت اور امید کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ جنگ یا تنازع کے حل کی تصدیق کے طور پر۔
