کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبائی دارالحکومت کے لیے ایک مربوط سکیورٹی منصوبے کی منظوری دی ہے جس کا بنیادی مقصد پولیسنگ اور شہری سکیورٹی کے نظام کو جدید بنانا اور دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں اداروں کے ردعمل کی صلاحیت بہتر کرنا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ اجلاس میں منصوبے کے ساتھ بلوچستان پولیس کی اصلاحات اور داخلی احتساب کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملی صلاحیت اہم پالیسی ترجیح بنی ہوئی ہے۔ مربوط نظام کا تصور مختلف سکیورٹی افعال کو بہتر رابطے، جدید نگرانی اور فوری ردعمل کے تحت لانے سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ میں منصوبے کو پولیسنگ اور سکیورٹی نظام کی جدید کاری اور دہشت گردی کے واقعات کے خلاف ردعمل مضبوط کرنے کی اسکیم قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس میں پولیس کے اندر احتساب سے متعلق اعداد بھی پیش کیے گئے۔ حکام کے مطابق غیر حاضری اور فرائض میں غفلت پر 871 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ مختلف افراد کے ساتھ تعینات 1,005 اہلکاروں کی خدمات واپس لے کر انہیں پولیس محکمے میں لوٹا دیا گیا ہے۔ یہ اعداد سرکاری حکام کی بریفنگ پر مبنی ہیں اور ان اقدامات کو محکمانہ نظم و ضبط اور دستیاب نفری کے بہتر استعمال کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا۔
مربوط سکیورٹی منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی نفاذ، تکنیکی نظاموں کی قابل اعتماد کارکردگی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور مختلف اداروں کے درمیان بروقت رابطے پر ہوگا۔ نگرانی کے جدید نظام کے ساتھ قانونی طریقہ کار، شہری حقوق اور ڈیٹا کے ذمہ دارانہ استعمال کی پابندی بھی اہم ہوگی۔
منصوبے کی منظوری ایک انتظامی مرحلہ ہے؛ اس کے حقیقی نتائج نفاذ کے بعد ہی جانچے جا سکیں گے۔ دستیاب رپورٹ میں اس خبر کا مرکزی نکتہ منصوبے کو سبز جھنڈی ملنا، پولیسنگ کی جدید کاری اور محکمانہ احتساب ہے، اس لیے ایسے نتائج یا صلاحیتوں کو حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا جو ابھی عملی طور پر ثابت ہونا باقی ہیں۔
