بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سینڈیمن صوبائی سول ہسپتال کوئٹہ میں ادویات کی خریداری اور اسٹور ریکارڈ سے متعلق آڈٹ اعتراضات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈان کے مطابق خصوصی آڈٹ میں مرکزی اسٹور سے 2 کروڑ 28 لاکھ 25 ہزار روپے مالیت کی ادویات کی کمی کی نشاندہی کی گئی، جبکہ محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ مکمل ریکارڈ اور اخراجات کی تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش نہ کر سکے۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی صدارت میں ہوا، جس میں سینڈیمن صوبائی سول ہسپتال کے مالی سال 2022-23 کے خصوصی آڈٹ کے اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2017-18 سے 2021-22 کے درمیان ہسپتال کو 10.443 ارب روپے فراہم یا مختص کیے گئے، جن میں سے 9.576 ارب روپے خرچ ہوئے۔ تاہم متعلقہ حکام مکمل اخراجاتی حسابات اور مطلوبہ سرکاری ریکارڈ فراہم نہیں کر سکے۔
آڈٹ کے مطابق اسٹور کی حفاظت، ریکارڈ اور سرکاری سامان کے حساب کی ذمہ داری متعلقہ افسر پر عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مرکزی اسٹور میں 22.825 ملین روپے کی ادویات موجود نہ ہونے کی نشاندہی ہوئی۔ فارماسسٹ انچارج نے معاملہ انتظامیہ کے علم میں لایا تھا، لیکن مسئلہ حل نہ ہوا، جبکہ ڈیلیوری چالان اور انسپیکشن کمیٹی کی رپورٹس بھی سرکاری ریکارڈ میں دستیاب نہیں تھیں۔
محکمہ صحت نے ادویات کی کمی سے انکار کیا، لیکن پی اے سی کے سامنے پیش آڈٹ ریکارڈ میں اسٹاک بیلنس کے فرق کی نشاندہی کی گئی جس کی تسلی بخش وضاحت نہ دی جا سکی۔ کمیٹی نے محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کو 15 دن میں تمام متعلقہ ریکارڈ، وضاحتیں اور معاون دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیئرمین نے خبردار کیا کہ غیر تسلی بخش جواب کی صورت میں معاملہ قومی احتساب بیورو کو بھیجنے یا ایف آئی آر کے اندراج کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
یہ معاملہ اس مرحلے پر آڈٹ اعتراض اور پارلیمانی جانچ ہے؛ ادویات کی مبینہ گمشدگی یا کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں ہوا۔ مزید کارروائی پی اے سی کے سامنے پیش ہونے والے ریکارڈ اور متعلقہ حکام کے جواب پر منحصر ہوگی۔




