راولپنڈی: پنجاب کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ راولپنڈی شہر کی نو اہم سڑکوں کی بحالی کا کام اکتوبر کے آخر تک شروع کرے گا۔ منصوبوں کے لیے راولپنڈی میونسپل کارپوریشن نے مجموعی طور پر تقریباً 1.6 ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ تعمیراتی کام پنجاب ہائی ویز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے شہری حدود میں مکمل کیا جائے گا۔

ڈان کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ خیابانِ سرسید روڈ کی بحالی پر 213.466 ملین روپے، بوکرا روڈ پر 226.454 ملین روپے، ففتھ روڈ کی اپ گریڈیشن پر 138.525 ملین روپے اور علی نواز چوک سے مری روڈ تک راول روڈ پر 241.894 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ چاندنی چوک سے کمرشل مارکیٹ روڈ کے لیے 115.718 ملین روپے مختص ہیں۔

اسی پروگرام میں ریلوے ورکشاپ روڈ کے لیے 247.871 ملین روپے، چائنا مارکیٹ سے گورڈن کالج روڈ کے لیے 138.318 ملین روپے، سیٹلائٹ ٹاؤن فور بی روڈ کے لیے 141.007 ملین روپے اور بند خانہ روڈ کے لیے 214.417 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق عملی کام کنٹریکٹس دینے کا عمل مکمل ہونے کے بعد شروع ہوگا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ڈویژنل انتظامیہ نے مرکزی سڑکوں کی بحالی کی ذمہ داری کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو اس بنیاد پر دی کہ راولپنڈی میونسپل کارپوریشن کے پاس ان منصوبوں کو خود انجام دینے کی مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں تھی۔ اس کے علاوہ راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ضلع کونسل کے تین اہم سڑک منصوبے بھی سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیے گئے ہیں۔

ان اضافی منصوبوں میں چکلالہ اسکیم تھری سے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ تک چوہدری بوستان خان روڈ کی تعمیر نو، چکری روڈ اور اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ فالکن چوک کی طرف جانے والی سڑک شامل ہیں۔ موجودہ اعلان تعمیراتی کام کے آغاز کے متوقع شیڈول اور مختص فنڈز سے متعلق ہے؛ منصوبوں کی حتمی تکمیل کی تاریخ اور اصل اخراجات کنٹریکٹ اور عملی تعمیر کے مراحل کے بعد واضح ہوں گے۔ اس لیے مختص رقم کو حتمی خرچ شدہ لاگت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔