راولپنڈی: راولپنڈی رنگ روڈ کے افتتاح کی تیاریاں جاری ہیں اور منصوبے کو 28 اکتوبر کو ٹریفک کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے توقع ہے کہ وہ جی ٹی روڈ پر واقع بانٹھ انٹرچینج سے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کریں گی، جس کے بعد مرکزی روٹ کو عام ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔

منصوبے کا مرکزی راستہ 38.3 کلومیٹر طویل ہے۔ بانٹھ، چک بیلی خان، اڈیالہ اور چکری کے چار انٹرچینج مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ ٹولنگ بوتھ نظام کی تنصیب افتتاح سے پہلے مکمل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ٹولنگ سسٹم کا انتظام پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی کے سپرد کیا گیا ہے اور ون نیٹ ورک کمپنی کے انتظام کے تحت اس کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اتھارٹی کے پاس ہوگی۔

تھلیاں کے مقام پر مجوزہ وسیع انٹرچینج ابھی مکمل نہیں ہوا۔ عبوری انتظام کے طور پر رنگ روڈ کو تھلیاں کے قریب موٹروے روٹ سے جوڑ دیا گیا ہے، تاہم مکمل براڈ بیسڈ انٹرچینج بعد کے مرحلے میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ مرکزی سڑک کے افتتاح کے باوجود منصوبے کا ایک اہم انٹرچینج ابھی زیر تکمیل رہے گا۔

پنجاب ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کے تیسرے نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری دی ہے جس کی مالیت 50.4 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ اس تخمینے میں تھلیاں کے براڈ بیسڈ انٹرچینج کی تعمیر کی لاگت بھی شامل ہے۔ نظرثانی شدہ لاگت اور باقی کام کے باعث منصوبے کی مکمل تکمیل اور مرکزی روٹ کے آپریشن میں فرق برقرار رہے گا۔

رنگ روڈ کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے گرد بھاری اور بین الاضلاعی ٹریفک کے دباؤ میں کمی، مختلف شاہراہوں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے اور شہر کے اندر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت کم کرنے کے لیے اہم منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم 28 اکتوبر کی افتتاحی تاریخ رپورٹ میں متوقع بتائی گئی ہے؛ حتمی شیڈول متعلقہ صوبائی حکام کے باضابطہ اعلان سے واضح ہوگا۔