راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر کے تقریباً 8,300 سرکاری اور نجی اسکولوں کا حفاظتی آڈٹ شروع کر دیا ہے، جس کے لیے تمام تحصیلوں میں مشترکہ معائنہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ڈان کے مطابق انتظامیہ نے یہ اقدام پشاور اور لاہور میں رپورٹ ہونے والے اسکول عمارتوں سے متعلق ناخوشگوار واقعات کے تناظر میں کیا ہے، جبکہ ٹیموں کو اپنی رپورٹس 20 اکتوبر تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر یاسین خان بلوچ نے بتایا کہ معائنہ ٹیمیں ضلع کے 7,000 نجی اور 1,300 سرکاری اسکولوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ سروے اتوار سے شروع ہوا اور ٹیمیں روزانہ صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک کام کر رہی ہیں۔ ان کا بنیادی کام اسکول عمارتوں کی ساختی مضبوطی، خطرناک حصوں، آگ سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور عمومی سکیورٹی کا جائزہ لینا ہے۔
شہر، کنٹونمنٹ، صدر، کلر سیداں، کہوٹہ، ٹیکسلا اور گوجر خان کے اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں میں عمارتوں اور فائر سیفٹی کے آڈٹ کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اسکولوں کا ڈیٹا اور دیگر ضروری معاونت فراہم کر رہی ہے۔ مشترکہ ٹیموں میں تعلیم کے محکمے کے علاوہ ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور متعلقہ مقامی حکومت کے نمائندوں کی شمولیت بھی بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے معائنے کا شیڈول تبدیل کرنے اور نجی تعلیمی اداروں کو تیاری کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی آڈٹ کے مقصد کی حمایت کرتی ہے، لیکن اداروں کو مطلوبہ دستاویزات مکمل کرنے، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے اور تکنیکی معائنے کرانے کے لیے مناسب مہلت ملنی چاہیے۔
نجی اسکولوں کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر نوٹس یا پیشگی اطلاع کے بغیر آڈٹ سے انتظامی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، کیونکہ بعض حفاظتی اقدامات کے لیے ماہرین سے مشاورت، آلات کی خریداری اور عمارت میں ساختی تبدیلیاں درکار ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام اداروں کو آڈٹ کے معیار، ضروری حفاظتی انتظامات، مطلوبہ دستاویزات اور معائنہ طریقہ کار کے بارے میں پیشگی واضح معلومات فراہم کی جائیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابھی انفرادی اسکولوں کے نتائج یا خلاف ورزیوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اس مرحلے پر کارروائی ایک ضلع گیر جانچ ہے، اس لیے کسی اسکول کو غیر محفوظ قرار دینا آڈٹ رپورٹ اور متعلقہ حکام کے حتمی جائزے سے پہلے درست نہیں ہوگا۔ 20 اکتوبر تک رپورٹوں کی تکمیل کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ کتنے اداروں میں فوری مرمت، فائر سیفٹی اپ گریڈ یا دیگر اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔
