راولپنڈی: ضلع راولپنڈی میں ڈینگی کے تین نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد رواں سیزن میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 70 ہوگئی ہے۔ نئے کیسز کے بعد ضلعی ایمرجنسی اور رسپانس کمیٹی نے فیلڈ سرویلنس مضبوط کرنے اور مچھر کی افزائش کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی و خاتمے کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈینگی ایڈیز مچھر کے ذریعے پھیلنے والی وائرل بیماری ہے، اور بارش یا کھڑے صاف پانی کے چھوٹے ذخائر اس مچھر کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرسکتے ہیں۔ گھروں، تعمیراتی مقامات، چھتوں، گملوں، پانی کی ٹینکیوں اور استعمال شدہ ٹائروں میں جمع پانی نگرانی کا اہم ہدف ہوتا ہے۔ موسم میں تبدیلی کے باوجود اگر افزائش گاہیں موجود رہیں تو کیسز سامنے آتے رہ سکتے ہیں۔
70 کا عدد رواں سیزن میں اب تک رپورٹ شدہ تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد ہے، اسے ایک وقت میں زیر علاج تمام مریضوں کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ مریضوں کی صحت یابی، اسپتال میں داخل ہونے یا بیماری کی شدت سے متعلق اعداد الگ ہوسکتے ہیں۔ نئے تین کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائرس کی مقامی منتقلی کی نگرانی ابھی بھی ضروری ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور صحت ٹیموں کے لیے فیلڈ سرویلنس میں لاروا کی تلاش، مثبت مقامات کی صفائی، اسپرے یا دیگر ویکٹر کنٹرول اقدامات اور ہسپتالوں سے کیس رپورٹنگ شامل ہوسکتی ہے۔ مؤثر ڈینگی کنٹرول صرف اسپرے پر منحصر نہیں ہوتا؛ پانی جمع ہونے سے روکنا اور گھروں و کاروباری مقامات پر افزائش گاہیں ختم کرنا زیادہ پائیدار اقدام سمجھا جاتا ہے۔
شہریوں کو تیز بخار، شدید جسم درد، سر درد یا دیگر مشتبہ علامات کی صورت میں مستند طبی مشورہ لینا چاہیے۔ خون بہنے، شدید کمزوری، پیٹ میں درد یا مسلسل قے جیسی علامات فوری طبی توجہ کی متقاضی ہوسکتی ہیں۔ ضلع میں کیسز کی تعداد محدود ہونے کے باوجود صحت حکام کا زور اس بات پر ہے کہ نگرانی میں کمی نہ کی جائے، کیونکہ بروقت ویکٹر کنٹرول سے کیسز کے بڑے اضافے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
