ماسکو: روس ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندی میں توسیع کرنے اور امریکا کے ساتھ ایندھن کی فراہمی سے متعلق انتظامات پورے کرنے کے لیے مخصوص کوٹہ نظام استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ رائٹرز نے 29 اکتوبر کو اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حکومت برآمدی پالیسی کو اس طرح ترتیب دینا چاہتی ہے کہ بیرونی ذمہ داریوں کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں ڈیزل کی دستیابی بھی متاثر نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ طریقہ کار میں عمومی برآمدی پابندی برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ مخصوص مقدار کو کوٹے کے ذریعے امریکا سے متعلق معاہدے کے لیے مختص کیا جائے گا۔ چونکہ یہ معلومات ذرائع پر مبنی ہیں، اس لیے حتمی ضابطے، مقدار اور مدت سرکاری اعلان کے بعد ہی قطعی طور پر واضح ہوں گے۔ روسی حکومت توانائی کی برآمدات اور مقامی ایندھن کی قیمتوں کے درمیان توازن کے لیے ماضی میں بھی عارضی پابندیوں اور برآمدی حدود کا استعمال کرتی رہی ہے۔

ڈیزل روس کی اہم ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات میں شامل ہے اور عالمی منڈی میں روسی سپلائی میں تبدیلی یورپ، ایشیا اور دیگر درآمدی خطوں کی قیمتوں اور تجارتی بہاؤ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ حالیہ عرصے میں روسی ریفائنریوں کو جنگ سے متعلق خطرات، مرمت اور رسد کے مسائل کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث حکومت کے لیے داخلی ذخائر اور قیمتوں کا استحکام زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

امریکا کے ساتھ ڈیزل سے متعلق انتظام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، بحری رسد میں رکاوٹوں اور روس یوکرین جنگ کے اثرات سے پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں تیزی حکومتوں کے لیے سیاسی اور معاشی دباؤ پیدا کرتی ہے، خصوصاً ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں جہاں ڈیزل کا استعمال وسیع ہے۔

رائٹرز کے مطابق روس کی جانب سے کوٹے کا استعمال پابندی کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر مخصوص برآمدی ذمہ داری پوری کرنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی حتمی شکل، امریکی خریداروں کو فراہم کی جانے والی مقدار اور پابندی کی نئی مدت کے بارے میں مکمل تفصیلات ابھی سرکاری سطح پر جاری ہونا باقی ہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو مجوزہ پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ تمام شرائط کے ساتھ نافذ شدہ حتمی فیصلہ۔