ماسکو: روس کے پرم خطے میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں صنعتی تنصیب کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ کارکن زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق علاقائی گورنر نے اتوار کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کا نشانہ ایک صنعتی مقام بنا اور زخمی ہونے والے افراد اسی تنصیب سے وابستہ کارکن تھے۔
روسی حکام نے ابتدائی بیان میں حملے سے ہونے والے نقصان کی مکمل نوعیت یا متاثرہ صنعتی تنصیب کی تفصیلی شناخت جاری نہیں کی۔ واقعے کے بعد متعلقہ ہنگامی خدمات اور سکیورٹی اداروں نے علاقے میں کارروائی شروع کی۔ حکام کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق پانچ افراد کو زخم آئے، تاہم فوری طور پر کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی گئی۔
روس کے مختلف علاقوں میں یوکرین جنگ کے دوران ڈرون حملوں اور ڈرون روکنے کی کارروائیوں کے واقعات بارہا رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات میں روسی حکام عموماً فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ڈرون تباہ کرنے یا صنعتی، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع دیتے ہیں۔ پرم روس کے اندرونی حصے میں واقع ہے، اس لیے وہاں کسی صنعتی تنصیب کو ڈرون سے نقصان پہنچنے کی خبر جنگ کے جغرافیائی پھیلاؤ کے حوالے سے بھی توجہ کا باعث بنی ہے۔
اس واقعے کے بارے میں دستیاب معلومات فی الحال روسی علاقائی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ میں حملے کی ذمہ داری کے بارے میں کسی فریق کا حتمی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ دعویٰ شامل نہیں تھا۔ اسی وجہ سے حملہ آور کی شناخت یا ڈرون کے مقامِ آغاز کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں دونوں جانب سے دور مار ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں محاذ سے دور علاقوں میں بھی صنعتی اور توانائی تنصیبات متاثر ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ پرم کے تازہ واقعے میں مزید تفصیلات، نقصان کے تخمینے اور زخمیوں کی حالت سے متعلق معلومات روسی حکام کی آئندہ بریفنگز کے بعد واضح ہونے کی توقع ہے۔
