کیف: یوکرین کے جنوب مشرقی زاپوریژیا خطے میں ایک اسکول پر روسی فضائی حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق واقعہ 2 نومبر کو کومیشواخا نامی قصبے میں پیش آیا، جہاں اسکول کی عمارت کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں مقامی باشندے موجود تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی فورسز نے اسکول پر دو فضائی بم گرائے۔ صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوع پر امدادی کارکن اور پولیس کارروائی میں مصروف ہیں۔ مقامی حکام نے ہلاکتوں کے ساتھ زخمیوں کی بھی اطلاع دی، تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد اور بعض متاثرین کی حالت کے بارے میں معلومات ابتدائی مرحلے میں بدل سکتی ہیں۔

یوکرینی حکام کے مطابق اسکول کی عمارت شہری استعمال میں تھی اور وہاں لوگوں کو امدادی سامان بھی فراہم کیا جا رہا تھا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر جائے وقوع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ روس نے فوری طور پر اس مخصوص حملے پر تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی ماسکو کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ اسکول یا اس کے اطراف میں کسی فوجی ہدف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

زاپوریژیا یوکرین کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں جنگ کے دوران مسلسل گولہ باری، ڈرون اور فضائی حملے ہوتے رہے ہیں۔ خطے کے بعض حصوں پر روسی افواج قابض ہیں جبکہ باقی علاقے یوکرین کے کنٹرول میں ہیں، جس کے باعث فرنٹ لائن کے قریب آباد شہری مسلسل خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔

شہری مقامات پر حملوں کے بارے میں روس اور یوکرین ایک دوسرے پر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ کسی بھی مخصوص واقعے میں قانونی ذمہ داری کا تعین حملے کے ہدف، دستیاب انٹیلی جنس، استعمال شدہ ہتھیار اور شہری نقصان سمیت متعدد شواہد کی باقاعدہ تحقیقات کے بعد کیا جاتا ہے۔ تازہ واقعے میں فی الحال یوکرینی حکام کے بیانات بنیادی ذریعہ ہیں۔

کومیشواخا حملے کے بعد امدادی ٹیموں کی ترجیح ملبے کی تلاش، زخمیوں کی منتقلی اور متاثرہ خاندانوں کی مدد ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد، حملے کی نوعیت اور ممکنہ فوجی اہداف سے متعلق مزید تفصیل سامنے آنے پر واقعے کی مکمل تصویر واضح ہوگی۔