ریاض: سعودی زیر قیادت فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو تباہ کر دیا، جسے اتحاد نے یمن کے حوثی گروپ سے منسوب کیا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرون منگل کی شام روکا گیا اور اسے مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے نشانہ بنایا گیا۔
رائٹرز کے مطابق سعودی اتحاد نے اس واقعے کو حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پیش کیا اور کہا کہ مکہ کی سلامتی اس کے لیے ’’سرخ لکیر‘‘ ہے۔ مکہ اسلام کا مقدس ترین شہر اور سالانہ حج کا مرکز ہے، اس لیے شہر یا اس کے اطراف کسی بھی فضائی خطرے کو سعودی سکیورٹی ادارے انتہائی حساس معاملہ سمجھتے ہیں۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ یہ 2017 کے بعد مکہ کی جانب دوسرا معروف حوثی حملے کا واقعہ ہے۔ دوسری جانب حوثی حکام نے مکہ یا مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کی تردید کی اور کہا کہ ان کے حملوں کا ہدف مذہبی مقامات نہیں تھے۔ اس لیے ڈرون کے اصل ہدف کے بارے میں فریقین کے بیانات مختلف ہیں اور آزادانہ طور پر تمام تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے ساتھ سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک سعودی فضائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔ حوثیوں نے بعض حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں یمن میں سعودی کارروائیوں کے ردعمل سے جوڑا ہے۔
علاقائی کشیدگی صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ توانائی اور بحری تجارت پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب حوثیوں کی موجودگی اور سعودی تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں پر دباؤ نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھائی ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ملانے والی اہم پائپ لائن کو بھی حالیہ حملوں کے بعد نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس سے تیل کی ترسیل کے متبادل نظام پر دباؤ بڑھا۔
سعودی حکام نے کہا ہے کہ مکہ اور دیگر شہری مراکز کے دفاع کے لیے فضائی نگرانی اور دفاعی اقدامات جاری رہیں گے۔ حوثیوں اور سعودی اتحاد کے متضاد دعوؤں کے باعث واقعے کی مکمل نوعیت اور ڈرون کے حتمی ہدف کے بارے میں احتیاط کے ساتھ رپورٹنگ ضروری ہے۔
