جنیوا: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) نے کہا ہے کہ یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے باعث ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں دیگر افراد سمندر کے راستے جبوتی پہنچے ہیں۔ یہ اعداد انسانی بحران کی تازہ شدت ظاہر کرتے ہیں، ایسے وقت میں جب یمن کے مغربی اور جنوبی حصوں میں محاذ آرائی اہم بحری راستوں کے قریب بڑھ رہی ہے۔
UNHCR کے مطابق انسانی امداد تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عدم تحفظ، تباہ شدہ سڑکیں، ٹیلی کمیونیکیشن میں خلل اور نقل و حرکت پر پابندیاں امدادی اداروں کی کارروائیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ، خوراک، صاف پانی اور طبی سہولتوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے، جبکہ مسلسل جنگ کے باعث بعض علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی محدود ہے۔ ادارے نے جو اعداد جاری کیے ہیں وہ نقل مکانی کی موجودہ تصدیق شدہ سطح ہیں اور حالات کے بدلنے کے ساتھ ان میں اضافہ ممکن ہے۔
تازہ لڑائی کے دوران حوثی فورسز یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہیں اور باب المندب کے قریب علاقوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والا اہم بحری راستہ ہے جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی نقل و حمل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حوثیوں نے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی میزائل اور ڈرون حملے بڑھائے ہیں، جبکہ جواب میں سعودی اور یمنی فضائی افواج نے حوثی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔
لڑائی کے دونوں فریق اپنے فوجی اہداف اور نقصانات سے متعلق الگ الگ دعوے کرتے ہیں، جن کی ہر تفصیل کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ تاہم UNHCR کا بے گھر افراد سے متعلق بیان انسانی اثرات کے بارے میں اقوام متحدہ کی تصدیق شدہ اطلاع فراہم کرتا ہے۔ ادارے نے خاص طور پر کہا ہے کہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان اور سکیورٹی پابندیاں امدادی کام کے لیے عملی رکاوٹ بن رہی ہیں۔
یمن پہلے ہی طویل جنگ، معاشی بحران اور بنیادی خدمات کی کمزوری سے متاثر ہے۔ نئے محاذ کھلنے اور ساحلی علاقوں میں لڑائی بڑھنے سے ایسے خاندان بھی نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں جو پہلے کے تنازع میں متاثر ہو چکے تھے۔ جبوتی کی جانب سمندری نقل مکانی اس بحران کے علاقائی اثرات کو بھی نمایاں کرتی ہے، کیونکہ خلیج عدن کے دونوں جانب میزبان علاقوں پر انسانی امداد کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تازہ مرحلے میں فوری ترجیح شہریوں کے تحفظ، محفوظ انسانی راستوں اور امدادی رسائی کی بحالی ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ داخلی طور پر بے گھر افراد کا عدد جنگ کے فوجی نقشے سے ہٹ کر اس کے انسانی پیمانے کو ظاہر کرتا ہے۔ آئندہ صورتحال کا انحصار لڑائی کی شدت، باب المندب کے نزدیک محاذوں کی پیش رفت اور امدادی اداروں کو متاثرہ آبادی تک محفوظ رسائی ملنے پر ہوگا۔

