امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے ایران کے خلاف جاری آپریشن ایپک فیوری کے بارے میں اپنی پہلی کانگریسی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر گولہ بارود کے استعمال نے امریکی فوج کے بعض اسٹریٹجک ذخائر پر دباؤ ڈالا اور نئے ہتھیار و گولہ بارود تیزی سے تیار کرنے کی صنعتی صلاحیت میں رکاوٹیں نمایاں کیں۔ رپورٹ 28 فروری سے 30 جون 2026 تک کے ابتدائی مرحلے کا جائزہ پیش کرتی ہے اور اسے امریکا کی جنگی لاگت و فوجی نقصان کا پہلا جامع سرکاری حساب قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 29 جون تک آپریشن ایپک فیوری کی تخمینی لاگت 33.4 ارب ڈالر تھی۔ اس میں تقریباً 22.3 ارب ڈالر استعمال شدہ گولہ بارود، 3.7 ارب ڈالر سازوسامان کے نقصانات اور 7.4 ارب ڈالر دیگر اضافی اخراجات کی مد میں شامل ہیں۔ ان اعداد میں تباہ یا متاثرہ فوجی تنصیبات کی مرمت اور مستقبل میں ختم شدہ ذخائر کو مکمل طور پر دوبارہ بھرنے کے تمام اخراجات شامل نہیں، اس لیے رپورٹ کا تخمینہ جنگ کی حتمی مجموعی لاگت نہیں ہے۔

انسپکٹر جنرل نے کہا کہ آپریشن میں استعمال ہونے والے گولہ بارود نے اسٹریٹجک انوینٹری میں کمی پیدا کی اور دوبارہ رسد کے لیے امریکی دفاعی صنعتی بنیاد کی بعض حدود سامنے آئیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ امریکی فوج فوری طور پر لڑنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی ہے، بلکہ اس نے مخصوص ذخائر، تیز استعمال اور پیداوار کی رفتار کے درمیان عدم توازن کی نشاندہی کی ہے۔ اسی بنا پر پینٹاگون خریداری کے مراحل مختصر کرنے، پیداوار کے دورانیے کم کرنے اور اہم خام مواد، پرزہ جات اور منتخب ہتھیار پہلے سے ذخیرہ کرنے کے اقدامات پر کام کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار آپریشن کی حمایت میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے خطے میں تعینات کیے گئے۔ امریکی افواج نے ہزاروں جنگی پروازیں اور بڑی تعداد میں فائر مشنز انجام دیے۔ اس عرصے میں ایرانی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نمایاں نقصان پہنچا۔ انسپکٹر جنرل کے مطابق کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں کی سینکڑوں عمارتیں یا دیگر ڈھانچے متاثر یا تباہ ہوئے۔

امریکی فوجی سازوسامان کے نقصانات میں متعدد طیارے اور ڈرون بھی شامل تھے۔ مختلف معتبر امریکی رپورٹنگ کے مطابق پینٹاگون کی رپورٹ نے چار ایف-15 طیاروں کی تباہی، ایک ایف-35 کو نقصان، سات کے سی-135 ٹینکر طیاروں کو نقصان اور زیادہ سے زیادہ 30 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کی تباہی کا ذکر کیا۔ ان اعداد کو انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے احاطہ کردہ مدت سے جوڑنا ضروری ہے؛ جنگ کے بعد کے مراحل یا مستقبل کے نقصانات اس حساب میں شامل نہیں۔

امریکی سفارتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی املاک کو ایرانی حملوں سے تقریباً 184 ملین ڈالر کے جسمانی نقصان کا تخمینہ دیا گیا، جبکہ محکمہ خارجہ نے انخلا اور دیگر ہنگامی انتظامات سمیت الگ اخراجات کی اطلاع دی۔ ہزاروں فوجی و سفارتی اہلکاروں کو خطے میں اپنی معمول کی جگہوں سے منتقل بھی کیا گیا۔

رپورٹ کی اہمیت اس لیے ہے کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں امریکی حکام عوامی طور پر اسلحہ کی دستیابی کے بارے میں زیادہ پراعتماد بیانات دیتے رہے تھے۔ انسپکٹر جنرل کی دستاویز اب باضابطہ طور پر تصدیق کرتی ہے کہ استعمال کی رفتار نے بعض ذخائر اور صنعتی صلاحیت پر دباؤ پیدا کیا۔ تاہم اسے پورے امریکی اسلحہ ذخیرے کے ختم ہونے یا فوری دفاعی ناکامی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا؛ اصل نتیجہ یہ ہے کہ طویل اور شدید جنگ نے ذخائر کی پائیداری اور پیداوار کی رفتار کے بارے میں سنجیدہ انتظامی و صنعتی چیلنجیں سامنے لائی ہیں۔