بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی 16 ستمبر کو چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے باضابطہ مذاکرات کریں گے۔ چینی وزارت خارجہ کی جانب سے 15 ستمبر کو جاری مختصر سرکاری اعلان میں دورے کی تاریخ اور دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تصدیق کی گئی، تاہم مذاکرات کے تفصیلی ایجنڈے یا متوقع نتائج کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی تنازع نے پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق چین ایران کا ایک اہم معاشی شراکت دار اور سفارتی حامی ہے اور بیجنگ حالیہ کشیدگی کے دوران سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ عراقچی اور وانگ یی کی حالیہ دنوں میں نئی دہلی میں برکس اجلاس کے موقع پر بھی مختصر ملاقات ہوئی تھی۔

چین کے سرکاری اعلان کے مطابق 16 ستمبر کی ملاقات وانگ یی اور عراقچی کے درمیان براہ راست بات چیت کا موقع فراہم کرے گی۔ خطے کی موجودہ صورت حال کے باعث ممکنہ طور پر ایران کی جنگ، توانائی کی ترسیل، علاقائی استحکام اور بڑی طاقتوں کے سفارتی روابط زیر بحث آ سکتے ہیں، لیکن سرکاری اعلان میں ان موضوعات کی باقاعدہ فہرست جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے کسی مخصوص معاہدے، جنگ بندی تجویز یا ثالثی فارمولے کے بارے میں پیشگی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

دورہ اس وقت بھی اہم ہے جب چین اور امریکا کے تعلقات میں ایران ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن نے بیجنگ کو ایران کے ساتھ بعض دفاعی و تکنیکی روابط کے بارے میں خبردار کیا ہے، جبکہ چین نے حالیہ الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مخصوص معاملے میں ثبوت کے بغیر شبہات قبول نہیں کیے جا سکتے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع رابطوں سے قبل عراقچی کی بیجنگ آمد خطے کی سفارت کاری میں چین کے کردار پر مزید توجہ مرکوز کرے گی۔

ایران اور چین کے درمیان توانائی، تجارت اور سفارتی تعاون کے دیرینہ روابط ہیں، جبکہ بیجنگ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر اقتصادی مفادات بھی رکھتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور خطے کی توانائی سپلائی سے متعلق خدشات نے چین سمیت بڑی درآمدی معیشتوں کے لیے استحکام کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تاہم 16 ستمبر کے دورے کے حوالے سے فی الحال واحد باضابطہ تصدیق یہ ہے کہ عراقچی چین جائیں گے اور وانگ یی سے مذاکرات کریں گے؛ بات چیت کے نتائج ملاقات کے بعد جاری سرکاری بیانات سے واضح ہوں گے۔