اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو موجودہ علاقائی کشیدگی کم کرنے کا بہترین دستیاب راستہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق دونوں عہدیداروں کے درمیان پیر کی شب ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور سفارتی راستوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت خارجہ نے بتایا کہ گفتگو کے دوران دونوں جانب اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ سمجھوتوں کو آگے بڑھانا کشیدگی میں کمی کے لیے اہم ہے۔ رافیل گروسی نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو آئی اے ای اے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشکش ایسے تناظر میں اہم ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری امور، نگرانی اور اعتماد سازی کے پہلو وسیع تر سفارتی عمل کا حصہ رہے ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا اور ایران کے درمیان جون 2026 میں طے پائی تھی اور پاکستان نے قطر کے ساتھ ثالثی میں کردار ادا کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی اور اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے، جن میں جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے ورکنگ انتظامات پر بات کی گئی۔ حالیہ ہفتوں میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد پاکستان مسلسل اس فریم ورک کی طرف واپسی پر زور دیتا رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے گفتگو میں اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کے احترام سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی امن اور ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے نظام کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق ڈار نے رافیل گروسی کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے امیدوار ہونے کا بھی ذکر کیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

گروسی اس وقت آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی نگرانی میں ان کا ادارہ مرکزی تکنیکی کردار رکھتا ہے۔ تاہم تازہ ٹیلی فونک رابطے میں کسی نئے جوہری معاہدے، معائنہ نظام یا فوری تکنیکی مشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تصدیق شدہ پیش رفت صرف یہ ہے کہ انہوں نے ضرورت کی صورت میں تکنیکی مدد کی پیشکش کی اور دونوں عہدیداروں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کو کشیدگی کم کرنے کے لیے موزوں راستہ قرار دیا۔

پاکستانی حکام اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ جون میں قائم سفارتی فریم ورک کو برقرار رکھنا امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکراتی عمل میں لانے کے لیے زیادہ قابل عمل راستہ ہے۔ موجودہ رابطہ اسی جاری سفارتی کوشش کا حصہ ہے اور اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلام آباد علاقائی تنازع کو عسکری کشیدگی کے بجائے مذاکرات، ثالثی اور بین الاقوامی نگرانی کے ذریعے سنبھالنے کی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے۔

اس مرحلے پر کسی نئی امریکی یا ایرانی رضامندی، جنگ بندی یا حتمی سمجھوتے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے گفتگو کو پیش رفت کی سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ بحران کے حل یا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مکمل نفاذ کے اعلان کے طور پر۔