سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد نے کہا ہے کہ خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے پر جاری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے بیان کے مطابق زخمیوں کی حالت معمولی سے درمیانی نوعیت کی بتائی گئی، جبکہ سات گھروں اور دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اتحاد کے مطابق یہ حملے پیر کو کیے گئے اور ان کی تفصیل منگل 15 ستمبر کو جاری کی گئی۔ سعودی حکام نے متعدد شہروں میں احتیاطی انتباہات بھی جاری کیے، جن میں بعض مقامات پر بعد میں خطرہ ٹل جانے کی اطلاع دی گئی۔ دستیاب سرکاری بیان میں 13 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم ہر میزائل یا ڈرون کے ہدف اور روکنے کے طریقہ کار کی مکمل عملی تفصیل عام نہیں کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ مشترکہ افواج ان حملوں سے ’ذمہ دارانہ اور سخت‘ انداز میں نمٹیں گی تاکہ سعودی عرب کی خودمختاری، شہری تنصیبات اور آبادی کا تحفظ کیا جا سکے۔ یہ بیان آئندہ فوجی ردعمل کے ارادے کا اظہار ہے؛ سعودی حکام نے اسی بیان میں کسی مخصوص نئے آپریشن، ہدف یا حملے کے مکمل منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔
حوثی حکام نے دوسری جانب دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے 50 سے زیادہ سعودی حملوں کا دعویٰ کیا، لیکن ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ یمن میں جاری لڑائی کے دونوں فریق ایک دوسرے پر شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے الزامات لگاتے رہے ہیں، اس لیے جانی نقصان اور اہداف سے متعلق متنازع دعوؤں کو متعلقہ فریق کے حوالے سے بیان کرنا ضروری ہے۔
حالیہ کشیدگی یمن کے طویل تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ گزشتہ دنوں بھی سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں حملوں اور سکیورٹی الرٹس کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ خمیس مشیط اور ابہا جنوبی سعودی عرب کے اہم شہری و فوجی مراکز ہیں، جبکہ طائف مغربی حصے میں واقع ہے۔ حملوں کا جغرافیائی پھیلاؤ سعودی حکام کے لیے فضائی دفاع اور شہری انتباہی نظام پر اضافی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
علاقائی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات یمن تک محدود نہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب جنگی سرگرمی، سعودی توانائی تنصیبات سے متعلق خدشات اور خلیجی سفارتی رابطوں میں رکاوٹ عالمی تجارت اور تیل کی منڈیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ تاہم کسی ایک حملے کے نتیجے کو وسیع تر توانائی سپلائی میں مستقل خلل کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ عملی اثرات صورتحال کی مدت اور بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے نقصان پر منحصر ہیں۔
15 ستمبر کی تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ سعودی زیر قیادت اتحاد نے تین شہروں پر میزائل و ڈرون حملوں میں 13 شہریوں کے زخمی ہونے اور محدود املاک کے نقصان کی اطلاع دی ہے اور مزید حملوں کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ آئندہ صورتحال کا انحصار فوجی کارروائیوں، سفارتی رابطوں اور یمن میں محاذوں کی پیش رفت پر ہوگا۔

