کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے قرض اور دیگر فنانسنگ تک رسائی آسان بنانے کی غرض سے ’SMEConnect‘ کے نام سے ایک مرکزی ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرا دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد ایس ایم ایز اور بینکوں و ترقیاتی مالیاتی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور فنانسنگ درخواست کے عمل کو زیادہ قابل رسائی، مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔
پورٹل کے ذریعے اہل کاروباری ادارے ایک مرکزی نظام سے فنانسنگ کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ درخواست جمع ہونے کے بعد اس کی پیش رفت حقیقی وقت میں دیکھی جا سکے گی، جبکہ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں متعلقہ وجہ بھی درخواست گزار کے سامنے دستیاب ہوگی۔ یہ خصوصیت ایسے کاروباروں کے لیے اہم ہو سکتی ہے جنہیں روایتی قرض کے عمل میں درخواست کی موجودہ حالت یا مسترد ہونے کے اسباب جاننے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ایس ایم ای شعبے کے لیے مالیاتی ماحول بہتر بنانے کو اپنی پالیسی ترجیحات میں شامل کیا ہوا ہے۔ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار، مقامی پیداوار اور خدمات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم رسمی بینکاری قرض تک محدود رسائی طویل عرصے سے ان کی ترقی میں ایک رکاوٹ سمجھی جاتی رہی ہے۔ SMEConnect اسی مسئلے کے ایک حصے، یعنی درخواست اور ادارہ جاتی رابطے، کو ڈیجیٹل طریقے سے حل کرنے کی کوشش ہے۔
مرکزی پورٹل بینکوں اور ڈی ایف آئیز کو ممکنہ ایس ایم ای قرض گیر اداروں سے جوڑتا ہے۔ اس سے درخواست کے مختلف مراحل کی نگرانی، معلومات کی فراہمی اور فنانسنگ کے مواقع تک رسائی ایک جگہ پر لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم پورٹل کا آغاز خودکار طور پر قرض کی منظوری کی ضمانت نہیں دیتا؛ ہر درخواست پر متعلقہ مالیاتی ادارے کی کریڈٹ پالیسی، اہلیت، کاروباری ریکارڈ اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضے لاگو رہیں گے۔
فنانسنگ تک رسائی بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی افادیت کا انحصار بینکوں کی عملی شمولیت، درخواستوں کے بروقت فیصلوں، ایس ایم ایز کی دستاویزات اور کریڈٹ رسک کے جائزے کے طریقہ کار پر ہوگا۔ اس لیے پورٹل کو قرض کی فراہمی کے مکمل حل کے بجائے درخواست اور رابطے کے بنیادی ڈھانچے میں ایک نئی سہولت سمجھا جا سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اقدام سے درخواست گزاروں کو کم از کم یہ موقع ملے گا کہ وہ ایک مرکزی نظام کے ذریعے اپنی درخواست کی حالت دیکھ سکیں اور مسترد ہونے کی صورت میں وجہ سے آگاہ ہوں۔ اگر بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے اسے وسیع پیمانے پر استعمال کرتے ہیں تو یہ ایس ایم ای قرض کے عمل میں معلوماتی خلا اور انتظامی تاخیر کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

