اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چیک کلیئرنگ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم، PECS، متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت بینکوں کے درمیان کاغذی چیک منتقل کرنے کے بجائے چیک کی الیکٹرانک تصویر اور متعلقہ کلیئرنگ ڈیٹا استعمال ہوگا۔ ابتدائی پائلٹ 15 اکتوبر 2026 سے شروع کیا جائے گا۔

مرکزی بینک کے مطابق PECS ’چیک ٹرنکیشن‘ کے تصور پر مبنی ہے، جس کی قانونی بنیاد Payment Systems and Electronic Fund Transfers Act 2007 میں موجود ہے۔ چیک وصول کرنے والا بینک اس کی تصویر حاصل کرکے کلیئرنگ ہاؤس، نیشنل انسٹی ٹیوشنل فسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز یعنی NIFT، کو بھیجے گا، جو تصویر اور ڈیٹا ادائیگی کرنے والے بینک تک پہنچائے گا۔

پہلے مرحلے میں 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک منتخب کلیئرنگ اداروں میں محدود پائلٹ چلایا جائے گا۔ اس کے نتائج اور تکنیکی مسائل کا جائزہ لینے کے بعد 16 نومبر سے 31 دسمبر تک نظام باقی شریک اداروں تک بڑھایا جائے گا۔ تمام متعلقہ اداروں کو 30 اپریل 2027 تک ضروری انفراسٹرکچر تیار کرکے ملک گیر نفاذ مکمل کرنا ہوگا۔

نئے طریقہ کار میں ادائیگی کرنے والا بینک الیکٹرانک تصویر کی بنیاد پر چیک منظور یا مسترد کر سکے گا۔ اگر تصویر یا دستاویز کی اصلیت پر معقول شبہ ہو تو فزیکل چیک طلب کرنے کا طریقہ بھی موجود ہوگا۔ اصل چیک ابتدائی طور پر وصول کرنے والے ادارے کے پاس رہے گا جب تک کلیئرنگ ہاؤس اسے طے شدہ عمل کے تحت حاصل نہ کرے۔

اسٹیٹ بینک نے شریک مالیاتی اداروں کو متعلقہ عملے کی تربیت، صارفین میں آگاہی اور مقررہ کلیئرنگ و سیٹلمنٹ قواعد پر عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ نظام پاکستانی روپے میں جاری چیک، پے آرڈر، بینکرز چیک اور ان جیسے بینک کلیئرنگ آلات پر لاگو ہوگا۔ پائلٹ مدت کے دوران روزانہ ایک اضافی PECS کلیئرنگ سائیکل بھی چلانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

PECS کا مقصد چیک کی جسمانی نقل و حمل کم کرکے کلیئرنگ کو تیز اور زیادہ مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کی عملی کامیابی پائلٹ کے نتائج، بینکوں کے تکنیکی انفراسٹرکچر اور فراڈ یا جعلی چیک سے نمٹنے کے قواعد کے مؤثر نفاذ پر منحصر ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے مرحلہ وار طریقہ اسی لیے اختیار کیا ہے تاکہ ملک گیر نفاذ سے پہلے مسائل کی نشاندہی اور اصلاح کی جا سکے۔